سگریٹ ٹیکس میں فوری اضافہ ضروری

newsdesk
6 Min Read
تحقیقی اداروں نے وفاقی بجٹ 2026-27 میں سگریٹ ٹیکس میں اضافہ تجویز کیا، صحتی نقصان کم اور اضافی آمدنی کی تخمینی تفصیلات پیش کی گئیں۔

ایس پی ڈی سی اور سپارک کی جانب سے وفاقی بجٹ 2026-27 میں سگریٹ ٹیکس بڑھانے کا مطالبہ

اسلام آباد (2 اپریل 2026)۔ سوشل پالیسی اینڈ ڈیولپمنٹ سینٹر (ایس پی ڈی سی) نے وفاقی حکومت سے آئندہ مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ میں سگریٹ پر عائد ٹیکس بڑھانے کا مطالبہ کردیا ہے اس حوالے سےسوشل پالیسی اینڈ ڈیولپمنٹ سینٹر (ایس پی ڈی سی)اور سوسائٹی فار دی پروٹیکشن آف دی رائٹس آف دی چائلڈ (سپارک) کے اشتراک سے پاکستان ٹوبیکو فیکٹ شیٹ جاری کی جس کا مقصد وفاقی بجٹ 2026-27 کے لیے سگریٹ ٹیکس کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے تاکہ عوامی صحت کا تحفظ کیا جا سکے اور مالیاتی نتائج کو بہتر بنایا جا سکےاہم نکات پیش کرتے ہوئے ایس پی ڈی سی کے منیجنگ ڈائریکٹر محمد آصف اقبال نے کہا کہ پاکستان میں تمباکو نوشی ایک سنگین عوامی صحت کا مسئلہ ہےجس کے باعث ہر سال ایک لاکھ بیانوے ہزارسے زائد اموات ہوتی ہیں انہوں نے بتایا کہ تمباکو نوشی سے متعلق بیماریوں کا معاشی بوجھ 2024-25 میں تقریباً 1,835 ارب روپے ہے، جو کہ تمباکو ٹیکس سے حاصل ہونے والے 266 ارب روپے سے کہیں زیادہ ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سگریٹ کی قیمتیں خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں اب بھی کم ترین ہیں، جس کی بڑی وجہ ٹیکس کی شرح میں جمود اور حقیقی ٹیکسیشن میں کمی ہےانہوں نے مزید کہا کہ فروری 2023 کے بعد سے سگریٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف سی ڈی) میں کوئی اضافہ نہیں ہواجس کے باعث ریٹیل قیمت میں ٹیکس کا حصہ کم ہو گیا ہے اور سگریٹ زیادہ سستے ہو گئے ہیں، خاص طور پر کم قیمت برانڈز۔ ایس پی ڈی سی نے تجویز دی ہے کہ اکانومی برانڈز پر فی پیکٹ 35 روپے اور پریمیم برانڈز پر 21 روپے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں اضافہ کیا جائے، اور بتدریج ایک یکساں ٹیکس نظام کی طرف بڑھا جائےوزارتِ قومی صحت خدمات، قواعد و رابطہ کے پارلیمانی سیکرٹری نیلسن عظیم نے کہا کہ تمباکو نوشی کے عوامی صحت پر نہایت سنگین اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور اس کا معاشرے پر وسیع اثر ہے۔ انہوں نے کہا، “ہماری آنے والی نسلوں کی صحت خطرے میں ہے اور یہ ایسا چیلنج ہے جسے ہم نظرانداز نہیں کر سکتے۔ عدم اقدام کے نتائج نہ صرف صحت بلکہ معاشی اور سماجی لحاظ سے بھی بہت نقصان دہ ہوں گے قومی اسمبلی کی رکن ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ اسلم سومرو نے اپنے خطاب میں تمباکو ٹیکسیشن کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ مضبوط مالیاتی پالیسیاں قابلِ تدارک بیماریوں میں کمی اور صحت کے نظام پر دباؤ کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں تمباکو ٹیکس میں اضافہ صرف آمدنی بڑھانے کا ذریعہ نہیں بلکہ ہماری آبادی کی صحت اور مستقبل میں سرمایہ کاری ہے۔
رکن قومی اسمبلی محمد ریاض فتیانہ نے حکومت پر زور دیا کہ وہ 2026-27 کے بجٹ میں اس ٹیکس میں اضافے کو ترجیح بنائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سگریٹ پر ایف ای ڈی بڑھانے سے نہ صرف معاشی ترقی میں مدد ملے گی بلکہ تمباکو کے استعمال کو کم کرکے زندگیاں بھی بچائی جا سکیں گی۔ اس اقدام پر عمل درآمد کر کے پاکستان ایک صحت مند اور زیادہ خوشحال مستقبل کی طرف ایک اہم قدم اٹھا سکتا ہے۔

سپارک کے پروگرام مینیجر ڈاکٹر خلیل احمد نے نوجوانوں میں تمباکو نوشی کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تشویش کا اظہار کیاانہوں نے کہا کہ سستے سگریٹ خاص طور پر نوجوانوں اور کم آمدنی والے افراد کو زیادہ متاثر کرتے ہیں۔ “زیادہ ٹیکس نوجوانوں کو سگریٹ نوشی شروع کرنے سے روکنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے، اور عالمی شواہد کے مطابق قیمتوں میں اضافہ نوجوانوں میں سگریٹ نوشی کی حوصلہ شکنی کرتا ہےایس پی ڈی سی کے اندازوں کے مطابق مجوزہ ایف سی دی ٹیکس میں اضافہ سے 51 ارب روپے اضافی آمدنی حاصل ہو سکتی ہے تین لاکھ 69ہزارنوجوان سگریٹ نوشی شروع کرنے سے بچ سکتے ہیں، اور دو لاکھ 71ہزار افراد کم سگریٹ نوشی کریں گے مقررین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حالیہ علاقائی صورتحال کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافے نے عوام اور معیشت کو شدید متاثر کیا ہے، اس لیے ضروری اشیاء کی قیمتیں بڑھانے کے بجائے سگریٹ ٹیکس میں اضافہ زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہےانہوں نے پالیسی سازوں پر زور دیا کہ آئندہ بجٹ میں جرات مندانہ اقدامات کیے جائیں تاکہ تمباکو ٹیکسیشن عوامی صحت کے اہداف کو پورا کرے اور بین الاقوامی بہترین طریقوں کے مطابق ہو۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے