3 فروری 2026 کو اسلام آباد میں اعلیٰ سطحی مکالمہ ہوا جس کا محور بچوں کی غذائیت اور ابتدائی نشوونما کے قوانین کو مضبوط بنانا تھا۔ اس نشست کی صدارت ڈاکٹر مختار احمد ملک بھارت بطور وزیرِ مملکت برائے صحت، محترمہ شرمیلا رسول بطور ڈپٹی کنٹری ریپریزنٹیٹو یونیسف اور ڈاکٹر شہزاد علی خان بطور وائس چانسلر ہیلتھ سروسز اکیڈمی نے مشترکہ طور پر کی۔پارلیمانی ارکان، صحت کے ماہرین اور دیگر شراکت داروں نے شرکت کر کے بچوں کی ابتدائی نشوونما کے اہم پہلوؤں پر مفصل تبادلۂ خیال کیا۔ شرکاء نے قانونی اور ضابطہ جاتی خلا کا جائزہ لیا اور اس بات پر زور دیا کہ بچوں کی صحت و غذائیت کے مؤثر تحفظ کے لیے واضح قوانین اور نگرانی کا نظام درکار ہے۔خصوصی توجہ نوزائیدہ اور کم عمر بچوں کی خوراک کے اشاریوں اور دودھ پلانے کی حفاظت پر دی گئی۔ شرکاء نے کہا کہ دودھ پلانے کی حفاظت کو یقینی بنانا اور مناسب خوراک کے معیار کو قانون سازی کے ذریعے مضبوط کرنا ابتدائی نشوونما کے لیے لازم ہے۔ اس ضمن میں مختلف قوانین اور ضوابط میں اصلاحات کی ضرورت پر اتفاق ظاہر کیا گیا۔مکالمے میں شریک ماہرین نے قانونی خامیوں اور نفاذ کے چیلنجز کو نمایاں کیا اور متحدہ حکمت عملی اپنانے کی تجویز دی تاکہ نوزائیدہ اور بچوں کی غذائی صورتحال بہتر ہو سکے۔ بار بار اس بات پر زور دیا گیا کہ ابتدائی نشوونما پر توجہ مستقبل کی صحت مند نسل کے لیے بنیادی سرمایہ کاری ہے۔اختتامی کلمات میں ڈاکٹر رمیش کمار اور ڈاکٹر شازیہ صبیہ اسلم سومرو نے پارلیمانی وابستگی کی تصدیق کی اور مربوط کارروائی، بہتر نگرانی اور قانون سازی کے ذریعے ہر بچے کو صحت مند، غذائیت مند اور محفوظ ماحول فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے پارلیمنٹ کی جانب سے آئندہ قانون سازی اور نگرانی میں پیش رفت کو ترجیح دینے کا عندیہ دیا۔شرکاء کے مطابق اگر ابتدائی نشوونما کو قانونی اور پالیسی سطح پر ترجیح دی جائے تو بچوں کی غذا اور دودھ پلانے کے تحفظ میں قابلِ قدر پیش رفت ممکن ہے، اور اسی تناظر میں آئندہ اقدامات کی منصوبہ بندی پر زور دیا گیا۔
