قومی اور صوبائی سطح کے نمائندوں، سول سوسائٹی اور علمی حلقوں کے شرکاء نے بچوں کے حقوق کے آئندہ ریاستی جائزے کے سلسلے میں ایک مشاورتی اجلاس میں حصہ لیا جہاں حکومتی اور غیرحکومتی اداروں کے درمیان ہم آہنگی اور شواہد کی بنیاد پر رپورٹنگ کی اہمیت پر زور دیا گیا۔بچوں کے حقوق کے نفاذ کو مضبوط بنانے کے مقصد سے منعقدہ اس اجلاس کی افتتاحی تقریر میں ڈاکٹر مہک نعیم، ممبر پنجاب کمیشن برائے بچوں کے حقوق، نے کمیشن کی ہر بچے کے حقوق کے تحفظ اور فروغ کے لیے وابستگی کا اعادہ کیا اور تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مستقل اور بامقصد مکالمے کی ضرورت پر زور دیا۔یونیسف کی جانب سے مس جینیفر ملٹن نے خطاب میں بتایا کہ پاکستان نے حالیہ برسوں میں خاصی پیش رفت کی ہے، خصوصاً ملک گیر بچوں کی مزدوری کے سروے نے پالیسیاں اور حفاظتی نظام بہتر بنانے کے لیے مضبوط شواہد فراہم کیے ہیں جن کی مدد سے بچوں کی فلاح و بہبود کو بہتر بنانے کے لیے مربوط حکمتِ عملی وضع کی جا سکتی ہے۔دفترِ عالیٰ کمشنر برائے انسانی حقوق کی نمائندہ کرسٹین چونگ نے معاہداتی رپورٹنگ کے طریقہ کار اور اسٹیک ہولڈرز کے کردار پر تفصیلی وضاحت پیش کی۔ انہوں نے پاکستان کی جانب سے دستخط شدہ اختیاری پروٹوکولز کی اہمیت اور ان کے قومی سطح پر پالیسی اور رپورٹنگ ذمہ داریوں پر اثرات واضح کیے اور دیگر بین الاقوامی میکانزم کے ساتھ ہم آہنگی کے ذریعے بچوں کے حقوق کے دفاع کو تقویت دینے کی تجاویز دیں۔شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ متاثر کن اور کارآمد اسٹیٹ رپورٹس کے لیے شواہد پر مبنی ڈیٹا، سول سوسائٹی اور سرکاری اداروں کے درمیان تعاون اور مسلسل مشاورت ناگزیر ہے۔ اجلاس کے اختتام پر شرکاء نے تعاون بڑھانے، شواہد پر مبنی رپورٹنگ کو یقینی بنانے اور ہر بچے کی بہبود کے فروغ کے لیے اپنے عزم کو دہرا یا۔
