سرحدی راستوں پر بچوں کی حفاظت بہتر بنانے کے طریقے

newsdesk
2 Min Read

اسلام آباد کے میریٹ ہوٹل میں منعقدہ ایک بین الاطرافی ورکشاپ میں سرحدی راستوں سے گزرنے والے بچوں کے تحفظ کو بہتر بنانے پر زور دیا گیا، جہاں حکومتی اداروں، غیر سرکاری تنظیموں اور بین الاقوامی شراکت داروں نے شریک ہو کر درپیش مسائل اور ممکنہ حل پر تبادلۂ خیال کیا۔ ورکشاپ میں بچوں کے تحفظ کے موثر نظام کی توثیق اور آگہی بڑھانے کے حوالہ سے سفارشات تیار کی گئیں۔

ورکشاپ کا عنوان "Children on the Move – Improving Child Protection at Pakistan’s Land Border Crossing Points” تھا اور اس میں بچوں کی حفاظت سے متعلق مختلف اسٹیک ہولڈرز نے حصہ لیا۔ پروگرام کا مقصد سرحدی چیک پوائنٹس اور زمینی راستوں پر پہنچنے والے بچوں کے لیے بہتر حفاظتی انتظامات، رجسٹریشن اور حوالہ کاری کے طریقہ کار کو تیار کرنا اور رائج کرنا تھا۔

شرکاء میں وفاقی و صوبائی سرکاری محکمے، کمشنریٹ برائے افغان پناہ گزینان، خیبرپختونخوا، مقامی این جی اوز اور بین الاقوامی ادارے شامل تھے۔ سیشنز میں بچوں کی شناخت، عارضی سہولیات، حفاظتی پیمانوں، عملے کی تربیت اور بین الا محکماتی تعاون جیسے اہم موضوعات پر بات چیت ہوئی۔

ورکشاپ کے دوران شرکاء نے مختلف چیلنجز کی نشاندہی کی اور ممکنہ حل پیش کیے، جن میں سرحدی مقامات پر بچوں کی محفوظ رجسٹریشن، حوالہ جاتی راستوں کی واضح لائحہ عمل، متعلقہ اسٹاف کی تربیت اور معلومات کے اشتراک کو بہتر بنانا شامل رہا۔ شرکاء نے ان تجاویز کی بنیاد پر سفارشات مرتب کیں تاکہ پالیسی سازی اور عملی اقدامات کے ذریعے بچوں کے تحفظ کو تقویت دی جا سکے۔

شرکاء کا مشترکہ عزم تھا کہ سرحدی راستوں پر بچوں کے حقوق اور حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے متعلقہ اداروں میں رابطہ کاری مضبوط کی جائے اور جلد از جلد عملی اقدامات متعارف کروائے جائیں۔ ورکشاپ سے سامنے آنے والی سفارشات آئندہ پالیسی اور عمل درآمد کے لیے ذمہ داران کے سامنے رکھی جائیں گی۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے