بونیر میں سیلاب، پاکستان کی ماحولیاتی کمزوری عیاں

newsdesk
2 Min Read

وارث پراچہ

بونیر میں حالیہ تباہ کن سیلاب نے پاکستان کی ماحولیاتی کمزوری کو ایک بار پھر واضح کر دیا ہے اور عالمی برادری کی جانب سے کیے گئے ماحولیاتی امدادی وعدوں پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سیلاب کی وجہ سے پورے شہر زیر آب آ گئے، قیمتی جانیں ضائع ہو گئیں اور لوگوں کی معاش کا نظام درہم برہم ہو گیا۔ متاثرین کی مدد اور بحالی کے لیے منتظر بہت سے افراد، جن میں بونیر کے رہائشی شاہد بھی شامل ہیں، اب بین الاقوامی برادری کے جوابات کے منتظر ہیں جن کا ابھی تک کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا گیا۔

ان سیلابوں نے مقامی سطح پر ہنگامی انتظامات اور آفات سے نمٹنے کی حکمت عملی کی کمی کو بھی بے نقاب کیا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں رابطے کے ذرائع منقطع اور امدادی سرگرمیاں مشکلات کا شکار ہیں، جس کے باعث شہری مزید مسائل کا شکار ہیں۔ اس صورتحال نے حکومتِ پاکستان سمیت عالمی اداروں سے بھرپور اور موثر ردعمل کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

علاوہ ازیں، اس مرتبہ ہونے والے نقصانات نے ایک بار پھر ان بین الاقوامی وعدوں کو یاد دلایا ہے جو ترقی پذیر ممالک کو ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے دیے گئے تھے۔ اب بونیر جیسے علاقوں کے لوگ اس امید میں ہیں کہ عالمی برادری اپنے وعدے پورے کرے گی اور بروقت امداد فراہم کی جائے گی تاکہ وہ اپنی زندگیوں کو دوبارہ معمول پر لا سکیں۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے