پاکستان کے سفارتخانے بیونس آئرس میں ۵ فروری ۲۰۲۶ کو یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر ایک خصوصی تقریب منعقد کی گئی جس میں مقامی کمیونٹی اور پاکستانی برادری نے شرکت کی۔ پروگرام میں صدر، وزیرِاعظم اور نائبِوزیرِاعظم/وزیرِخارجہ کے پیغامات پڑھے گئے جن میں کشمیر کے مظلوم عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے پاکستان کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت کا اعادہ کیا گیا۔یکجہتی کشمیر کے پیغام کو اجاگر کرتے ہوئے سفیر حسن افضل خان نے اپنے کلیدی خطاب میں بھارتی زیرِقبضہ جموں و کشمیر میں خصوصاً اگست ۲۰۱۹ میں خصوصی حیثیت کے غیرقانونی خاتمے کے بعد سے جاری شدید انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر زوردار انداز میں روشنی ڈالی۔ انقرائی صورتحال، پابندیوں اور مقبوضہ علاقوں میں شہری آزادیوں پر عائد قدغنوں نے کشمیریوں کی روزمرہ زندگی کو سنگین متاثر کیا ہے، جس پر سفیر نے بین الاقوامی توجہ کی ضرورت پر بات کی۔تقریب کے دوران منعقدہ تصویری نمائش نے معصوم کشمیریوں کی حالتِ زار اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے مناظرات کو منظرِ عام پر لایا، جس نے شرکاء میں گہرا اثر چھوڑا۔ نمائش نے کشمیری عوام کی جدوجہد اور ان کے بنیادی حقوق کے لیے بین الاقوامی حمایت کی ضرورت کو واضح انداز میں پیش کیا۔سفارتخانے کے میزبانوں نے مقامی پاکستانی برادری کے جذباتی ردِ عمل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یکجہتی کشمیر کا عزم مستقل ہے اور پاکستان عالمی سطح پر کشمیری عوام کے جائز حقِ خودارادیت کے لیے اتفاقِ رائے کی کوشش جاری رکھے گا۔ شرکاء نے بھیامن، انصاف اور انسانی وقار کے تقاضوں کے تحت کشمیریوں کی آواز بلند رکھنے کا عہد دہرایا۔
