برطانوی ادارہ پاکستان میں دو ہزار یتیم بچوں کی کفالت بڑھائے گا

newsdesk
3 Min Read
برطانوی فلاحی ادارہ پاکستان میں دو ہزار یتیم بچوں کی کفالت میں اضافہ کرے گا، دس ہزار خاندان مستفید ہوں گے اور گھروں، صحت و تعلیم پر توجہ دی جائے گی

برطانوی فلاحی تنظیم جو دنیا کے چودہ ممالک میں ایک لاکھ بیس ہزار یتیم بچوں کی کفالت کرتی ہے، پاکستان میں اپنے پروگرام کو بڑھاتے ہوئے دو ہزار مزید یتیم بچوں کو شامل کرنے کا اعلان کیا ہے جس سے تقریباً دس ہزار خاندانوں کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا۔ اس بات کا اعادہ برطانوی رکنِ پارلیمنٹ عمران حسین نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران اپنے ساتھیوں کے ہمراہ کیا۔اعلان کے موقع پر اُن کے ہمراہ فنڈ ریزنگ کے سربراہ الطاف حسین اور کمیونٹی فنڈ ریزنگ کے کوآرڈینیٹر بریڈ فورڈ مزمل خان موجود تھے جنہوں نے بتایا کہ یہ توسیعی اقدام غربت زدہ علاقوں میں رہنے والے یتیم بچوں اور بے سہارا خواتین کی زندگی میں بہتری لانے کے لیے ہے۔پروگرام خاص طور پر بہاولپور، راولپنڈی، اسلام آباد، مانسہرہ، مردان، مالاکنڈ، مظفر آباد، باغ اور میرپور کے غریب اور یتیم افراد کے لیے ہے۔ منصوبہ گھروں کی فراہمی، طبی سہولیات اور بنیادی تعلیم کی رسائی کو یقینی بنا کر یتیم بچوں کی کفالت اور کھلے دل سے دی جانے والی امداد کو منظم کرے گا۔تنظیم نے بتایا کہ اس وقت پاکستان میں وہ چودہ ہزار لوگوں کی کفالت کر رہی ہے جبکہ گیارہ سو یتیم بچوں کو ماہانہ تعلیمی، طبی اور غذائی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ یتیم بچوں کی کفالت کے تحت دی جانے والی یہ مسلسل مدد بچوں کی بہتر نشوونما اور طویل مدتی استحکام کے لیے ضروری خدمات تک رسائی ممکن بناتی ہے۔مزید بتایا گیا کہ سردیوں سے قبل خوراک اور سردیوں کے پیک تقسیم کرنے کا منصوبہ بھی شامل ہے تاکہ خاندان رمضان کے مقدس مہینے میں سکون کے ساتھ عبادت اور روزہ رکھ سکیں۔ اس قسم کے فلاحی اقدامات خصوصاً بے سہارا بیواؤں اور نادار خواتین کی روزمرہ زندگی میں فوری مثبت تبدیلی لانے کا سبب بنتے ہیں۔تنظیم نے یہ بھی کہا کہ ایک سو سے زائد ایسے بچے جو اس اسکیم کے تحت تعلیم مکمل کر چکے ہیں، آج ڈاکٹر، وکیل اور اساتذہ کے طور پر معاشرے میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ تنظیم ایشیا، افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ کے چودہ ممالک میں اپنی خدمات انجام دیتی رہی ہے اور پاکستان میں یتیم بچوں کی کفالت کے لیے اس توسیع کو ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے