اسلام آباد میں بوسنیا و ہرزیگووینا کا یومِ مملکت طلبہ کے ساتھ منایا گیا
اسلام آباد کی اقراء یونیورسٹی میں بوسنیا و ہرزیگووینا کے یومِ مملکت کی خصوصی تقریب منعقد کی گئی، جس میں بڑی تعداد میں طلبہ و طالبات نے شرکت کی۔ تقریب میں معروف فلم “Quo Vadis, Aida?” کی نمائش اور صدر ڈاکٹر ڈینس بیکیروویچ کا خصوصی پیغام دکھایا گیا، جس میں بوسنیا کے جمہوری مستقبل، انسانی حقوق کے عزم اور یورپی یونین و نیٹو میں شمولیت کے قومی مقاصد پر روشنی ڈالی گئی۔
یہ تقریب بوسنیا و ہرزیگووینا کے سفارتخانے، اقراء یونیورسٹی ایچ-9 کیمپس اور میڈیا ادارے “پاکستان ان دی ورلڈ” کے اشتراک سے منعقد ہوئی۔ بوسنیا کے سفیر ایمین چوہوداریویچ مہمانِ خصوصی تھے جن کا استقبال شعبہ سوشل سائنسز کے سربراہ ڈاکٹر شہریار اور میڈیا آرگنائزیشن کے چیف ایگزیکٹو تزئین اختر نے کیا۔ وسیع آڈیٹوریم طلبہ اور فیکلٹی سے کچھا کھچ بھرا ہوا تھا۔
صدر ڈاکٹر ڈینس بیکیروویچ نے اپنے پیغام میں کہا کہ بوسنیا و ہرزیگووینا کی منزل یورپ ہے اور ملک کی اسٹریٹجک سمت یورپی یونین اور نیٹو کے ساتھ وابستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ قوم کو ایسے رہنماؤں کی ضرورت ہے جو جمہوری، پرامن اور محفوظ مستقبل کے لیے سنجیدگی سے کام کریں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ یومِ مملکت انسانی حقوق، شہری آزادیوں، اتحاد، رواداری اور امن کی اُن قدروں کی یاد دہانی ہے جن پر کبھی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔
سفیر ایمین چوہوداریویچ نے خطاب میں اقراء یونیورسٹی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ سے بات کرنا ہمیشہ خوشی کا باعث ہوتا ہے کیونکہ انہی نوجوانوں میں پاکستان کا مستقبل اور ترقی پوشیدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بوسنیا کے یومِ مملکت کی اصل تاریخ 1943 کے اُس فیصلے سے جڑی ہے جب اینٹی فاشسٹ کونسل نے بوسنیا کی ریاستی حیثیت کو دوبارہ بحال کیا اور تمام شہریوں کے مساوی حقوق کی توثیق کی۔
سفیر نے پاکستان اور بوسنیا کے باہمی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ تین دہائیوں میں دوستی، احترام اور سمجھ بوجھ پر مبنی رشتے مسلسل مضبوط ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہزاروں میل کی دوری ہمارے تعلقات میں رکاوٹ نہیں بلکہ دونوں ملکوں کے درمیان ایک مضبوط پُل کا کردار ادا کرتی ہے۔
فلم “Quo Vadis, Aida?” کی اہمیت بیان کرتے ہوئے سفیر نے کہا کہ یہ فلم سربرینتسا کے المناک واقعے کی اصل انسانی کہانی بیان کرتی ہے جس میں ایک مترجمہ کی جدوجہد دکھائی گئی ہے۔ انہوں نے طلبہ کو اس فلم سے ہمدردی، یکجہتی اور عالمی ذمہ داری جیسے اہم سوالات اخذ کرنے کی ترغیب دی۔
تقریب کے دوران طلبہ نے بوسنیا کی تاریخ، ثقافتی تنوع اور جمہوری سفر کے بارے میں سوالات کیے جن کے سفیر نے تفصیل سے جواب دیے۔ بعد ازاں سفیر نے یونیورسٹی کا دورہ بھی کیا اور ڈاکٹر شہریار سے ملاقات میں دونوں ممالک کے تعلیمی اداروں کے درمیان مستقبل کے تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔


