۱۱ فروری ۲۰۲۶ کو بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی لاہور میں اختتام پذیر ہونے والی بین الاقوامی میڈیا کانفرنس نے میڈیا اور کمیونیکیشن کے میدان میں نئے بحثی نکات اور عملی تجاویز پیش کیں۔ اس دو روزہ اجتماع میں شمولیت کرنے والے محققین، صحافیوں، پالیسی سازوں اور میڈیا پیشہ ور افراد نے میڈیا خواندگی کی افادیت اور سماجی روئیے میں اس کے مثبت اثرات پر زور دیا۔میڈیا اور کمیونیکیشن اکیڈمک پروفیشنلز اور بیکن ہاؤس یونیورسٹی کے اشتراک سے منعقدہ اس کانفرنس کا موضوع "امید کی بحالی: میڈیا، ایکٹو ازم اور سماجی انصاف” تھا جس میں اخلاقی صحافت، شمولیتی بیانیے اور ڈیجیٹل تبدیلی کے دور میں علاقائی تعاون کے امور زیر بحث آئے۔ تنظیمی سربراہان نے کہا کہ اکیڈمی اور میڈیا کے درمیان مستقل رابطہ ایک مضبوط شہری شعور کی بنیاد رکھتا ہے۔افتتاحی نشست کی صدارت پروفیسر ڈاکٹر موئید یوسف وائس چانسلر بیکن ہاؤس یونیورسٹی نے کی، جبکہ اس موقع پر جاوید جبار، سفیر منصور احمد خان، پروفیسر ڈاکٹر بشرا حدران اور پروفیسر سوتلانا بوڈرونوا نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ان تقاریر میں ادارتی ذمہ داری، معلوماتی پڑتال اور تعلیمی اداروں کی ذمہ داری پر گفتگو ہوئی۔کانفرنس میں متنوع موضوعات پر نشستیں، تحقیقی پیپرز اور عملی ورکشاپس شامل تھیں جن میں "ڈیجیٹل دور میں چینی فنون” پر خصوصی ورکشاپ، سماجی انصاف کے لئے صحافت کے نئے تصورات، میڈیا ایکٹو ازم اور محروم طبقات کے حقوق، ڈیجیٹل شمولیت اور جدید ٹیکنالوجی کے صحافت پر اثرات پر مفصل بات چیت ہوئی۔ شرکاء نے ان سیشنز میں موجودہ چیلنجز کے ساتھ ساتھ عملی مواقع بھی زیرِ بحث لائے۔خطّۂ تعاون اور علاقائی رابطے کو تقویت دینے کے حوالے سے چین اور پاکستان کے میڈیا تعاون، سرحد پار تعلیمی تبادلے اور باہمی سمجھ بوجھ میں میڈیا خواندگی کے کردار پر خصوصی زور دیا گیا۔ تجویز پیش کی گئی کہ مشترکہ تحقیقی پروگرام اور ورکشاپس سے صحافتی معیار اور عوامی افہام و تفہیم بہتر ہو سکتی ہے۔کانفرنس میں بین الاقوامی اور ملکی ماہرین نے شرکت کی جن میں پروفیسر ڈاکٹر نیکو کارپنٹیئر، پروفیسر ڈاکٹر جیفری وِمر، پروفیسر ڈاکٹر فاطمہ الزہرا، پروفیسر ڈاکٹر جیسن گینس، جاوید جبار، مظهر عباس، طلعت حسین، فریحہ ادریس، ناصر جمال، سلیمہ ہاشمی، سیمی راحیل، منیزہ جہانگیر، نادیہ جمیل، عثمان پیرزادہ، مہنور چوہدری، ڈاکٹر الطاف اللہ خان، ڈاکٹر خالد جمیل اختر، ڈاکٹر ترنجیت سنگھ بوتالیا، فرید احمد ترین اور دیگر صاحبانِ علم و فن شامل تھے۔ ان کے تبصروں نے بحث کو عملی رنگ دیا اور مستقبل کے لائحہ عمل کے اشارے دیے۔اس موقع پر جاوید جبار کو طویل مدتی خدمات کے اعتراف میں لائف ٹائم اچیومنٹ اعزاز سے نوازا گیا۔ کانفرنس نے کیریئر کونسلنگ، مشاورتی سیشنز اور تکنیکی و تخلیقی ورکشاپس کا اہتمام بھی کیا جنہوں نے تعلیمی و پیشہ ورانہ تعاون کو فروغ دیا۔ اجلاس کے اختتام پر شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ میڈیا خواندگی معلوماتی شہرییت، شمولیتی کہانی نویسی اور علاقائی و عالمی گفت و شنید کے لئے بنیادی ستون ثابت ہو گی۔
