برمنگھم واقعے نے پاکستانی ڈاکٹروں کے خلاف ڈبلیو ایچ او ریڈ لسٹ کے امتیازی استعمال کو بے نقاب کر دیا
اسلام آباد — ندیم چوہدری
برطانیہ کے شہر برمنگھم میں یونیورسٹی ہاسپٹلز برمنگھم (UHB) اور کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان (CPSP) کے درمیان پاکستانی ڈاکٹروں کی تربیت سے متعلق معاہدے کے خاتمے نے عالمی طبی بھرتی کے نظام میں ایک سنگین اور تشویشناک خلاء کو بے نقاب کر دیا ہے، جہاں عالمی ادارۂ صحت (WHO) کی ہیلتھ ورک فورس سپورٹ اینڈ سیف گارڈز (ریڈ لسٹ) کو مبینہ طور پر پاکستانی ڈاکٹروں کو بین الاقوامی مواقع سے محروم کرنے کے لیے امتیازی اور بدنیتی پر مبنی انداز میں استعمال کیا جا رہا ہے۔
پاکستان اس وقت ڈبلیو ایچ او کی ریڈ لسٹ میں شامل ہے، جس کا مقصد ایسے ممالک کی نشاندہی کرنا تھا جہاں صحت کے نظام کمزور اور طبی افرادی قوت کی کمی ہے۔ تاہم طبی ماہرین اور پالیسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ برمنگھم واقعہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اس فہرست کو اخلاقی رہنما اصول کے بجائے ایک اسکریننگ ٹول کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، تاکہ پاکستانی ڈاکٹروں کو عالمی مواقع سے باہر رکھا جا سکے۔
یہ تضاد مزید نمایاں ہو جاتا ہے جب بھارت سے موازنہ کیا جائے، جہاں صحت کے نظام پر مساوی بلکہ بعض اوقات زیادہ دباؤ موجود ہے، مگر اس کے باوجود بھارت ریڈ لسٹ میں شامل نہیں۔ بھارت میں ڈاکٹروں کا تناسب تقریباً 1.2 فی ہزار آبادی ہے، جبکہ پاکستان میں یہ شرح 1.15 فی ہزار ہے، اس کے باوجود اخلاقی اور بھرتی سے متعلق پابندیاں صرف پاکستانی ڈاکٹروں پر عائد کی جا رہی ہیں۔
برمنگھم کیس نے ان خدشات کو مزید تقویت دی ہے کہ ریڈ لسٹ کو دانستہ طور پر خارج کرنے کے جواز کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ کے پی ایم جی (KPMG) آڈٹ کے بعد UHB نے اچانک CPSP کے ساتھ انٹرنیشنل ٹریننگ فیلو پروگرام ختم کر دیا، جس کے نتیجے میں 700 سے زائد پاکستانی ڈاکٹر غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گئے۔ ناقدین کے مطابق معاہداتی اور انتظامی مسائل کے ساتھ ساتھ پاکستان کا ریڈ لسٹ اسٹیٹس ایک سہل جواز کے طور پر استعمال کیا گیا، جو بھارت جیسے دیگر ممالک پر لاگو نہیں کیا گیا۔
صحت پالیسی کے ماہرین اس امر پر زور دیتے ہیں کہ ڈبلیو ایچ او ریڈ لسٹ کا مقصد کبھی بھی انفرادی پیشہ ور افراد کے روزگار کو محدود کرنا نہیں تھا، بلکہ حکومتوں کو اپنے صحت کے نظام اور ملازمت کے مواقع بہتر بنانے کی ترغیب دینا تھا۔ پاکستان میں ڈاکٹروں کی بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور جزوی روزگار اس دعوے کی نفی کرتی ہے کہ بیرون ملک جانا ’’برین ڈرین‘‘ ہے۔
بین الاقوامی بھرتی کے نظام سے وابستہ ایک سینئر معالج نے کہا،
“جہاں ایک ملک ڈاکٹر تو پیدا کرے مگر ان کے لیے روزگار فراہم نہ کر سکے، وہاں ہجرت ایک معاشی مجبوری بن جاتی ہے، نہ کہ اخلاقی خلاف ورزی۔ ایسی صورت میں ریڈ لسٹ کا استعمال اخلاقی بھرتی نہیں بلکہ اہل افراد کو لیبر مارکیٹ سے خارج کرنے کے مترادف ہے۔”
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کا ریڈ لسٹ میں برقرار رہنا ایک طرح کا ضابطہ جاتی ہتھیار بن چکا ہے، جس کے ذریعے میزبان ممالک اپنی بھرتی پالیسیوں پر تنقید سے بچتے ہوئے عالمی اخلاقی فریم ورک کا سہارا لیتے ہیں۔ برمنگھم واقعہ اس غلط استعمال کی ایک واضح مثال قرار دیا جا رہا ہے۔
طبی ادارے اب حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ اس معاملے کو باضابطہ طور پر ڈبلیو ایچ او کے سامنے اٹھائے، یا تو پاکستان کو ریڈ لسٹ سے نکلوانے کے لیے سفارتی کوششیں کی جائیں، یا کم از کم اس بات کی واضح تشریح حاصل کی جائے کہ ریڈ لسٹ کو انفرادی ڈاکٹروں کے روزگار پر پابندی کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا، خصوصاً اس صورت میں جب ملک میں ڈاکٹر بے روزگار ہوں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے بروقت سفارتی اقدام نہ کیا تو یہ رویہ پاکستانی پیشہ ور افراد کے خلاف امتیازی سلوک کی خاموش منظوری کے مترادف ہوگا۔ یہ معاملہ ادارہ جاتی اصلاحات سے زیادہ وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے، جس کے لیے ڈبلیو ایچ او، این ایچ ایس انگلینڈ اور دوطرفہ سطح پر فوری رابطہ ناگزیر ہے۔
ناقدین خبردار کرتے ہیں کہ اگر اس بیانیے کو چیلنج نہ کیا گیا تو پاکستانی ڈاکٹر اخلاقی بھرتی کے نام پر منظم اخراج کا شکار ہوتے رہیں گے، جبکہ بھارت جیسے بااثر ممالک اپنے ڈاکٹروں اور قومی مفادات کا مؤثر تحفظ کرتے رہیں گے۔
ایک سینئر ہیلتھ پالیسی تجزیہ کار کے مطابق،
“برمنگھم واقعہ ایک واضح وارننگ ہے۔ اگر پاکستان نے اب ریڈ لسٹ کے بیانیے کو چیلنج نہ کیا تو یہ ایک ایسا بین الاقوامی معیار بن سکتا ہے جو خاموشی سے مگر مستقل طور پر پاکستانی ڈاکٹروں کو حاشیے پر دھکیل دے گا۔”
Read in English: Birmingham Episode Exposes Discriminatory Use of WHO Red List Against Pakistani Doctors
