ذوالفقار علی بھٹو کو 4 اپریل 1979 کو ناکردہ جرم کے الزام پر تختہ دار پر لٹکا دیا گیا، اور یہ واقعہ ملکی سیاسی تاریخ کے ایک دردناک اور اہم موڑ کے طور پر یاد رکھا جاتا ہے۔ اس واقعے کے بعد بھی ان کے نظریات اور عوامی مشنز نے سیاسی جدوجہد کو زندگی بخشی۔راولپنڈی میں ذوالفقار علی بھٹو شہید کی 47ویں برسی کے موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما عامر صدیقی نے کارکنان سے گفتگو میں کہا کہ پارٹی نے ہر دور میں آمریت کے خلاف ثابت قدمی دکھائی اور شہید کے مشن کو زندہ رکھا۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ غریب عوام اور مختلف طبقات کی نمائندہ رہی ہے اور عوامی عہد کو پورا کرنے کی کوشش جاری ہے۔عامر صدیقی نے واضح کیا کہ بھٹو نے ملک کو متفقہ آئین دیا جس میں ختم نبوت کی شق شامل کی گئی، اور اس آئینی اقدام کو قومی اتفاق رائے کے تناظر میں پیش کیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو کا ماننا تھا کہ طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں اور جمہوریت ہی ترقی کا واحد راستہ ہے۔رہنما نے مزید کہا کہ بھٹو نے دفاع وطن کو مستحکم کرنے کے سلسلے میں ایٹمی ٹیکنالوجی کی بنیاد رکھی اور میزائل ٹیکنالوجی کے شعبے میں بھی اہم قدم اٹھائے گئے۔ اسی سوچ کے تحت صنعتی اور زرعی شعبوں میں بھی نمایاں پیش رفت ہوئی جس نے ملک کی بنیادوں کو مضبوط کیا۔عامر صدیقی نے کارکنان سے اپیل کی کہ سیاسی اختلافات کو پس پشت رکھ کر شہید کے مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں اور بی بی شہید کے خاندان کی قیادت میں چیئرمین بلاول بھٹو کا ساتھ دیں تاکہ ملک تعمیروترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔ انہوں نے زور دیا کہ پیپلز پارٹی ہی وہ جماعت ہے جو ملک کو بحرانوں سے نکال سکتی ہے اور عوامی مسائل کا حل اسی جماعت کے پاس موجود ہے۔
