بینظیر بھٹو کی اٹھارہویں برسی پر تعزیتی مجلس

newsdesk
2 Min Read
سلمہ برکت کے گھر اسلام آباد میں بینظیر بھٹو کی اٹھارہویں برسی پر قرآنی محفل اور دعائے مغفرت، رہنماؤں نے خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا

بینظیر بھٹو کی یاد میں اسلام آباد میں سلمہ برکت کی رہائش گاہ پر قرآنی تلاوت اور دعائے مغفرت کا اہتمام کیا گیا جہاں پیپلزپارٹی کے سینکڑوں قائدین و کارکنان نے شرکت کی اور مرحومہ کی خدمات کو یاد کیا گیا۔شرکائے تقریب نے کہا کہ بینظیر بھٹو محض ایک سیاسی رہنما نہیں بلکہ جمہوری بصیرت، حوصلے اور ثابت قدمی کی علامت تھیں۔ انہوں نے کہا کہ بینظیر بھٹو نے خواتین کی نمائندگی اور عوامی حقوق کے لیے لازوال خدمات انجام دیں اور ان کی جدوجہد پاکستان کی جمہوری تاریخ کا روشن باب ہے۔مقررین نے یاد دلایا کہ بینظیر بھٹو مسلم دنیا کی پہلی منتخب خاتونِ وزیراعظم تھیں اور انہوں نے صحت، تعلیم اور معاشرتی بہبود جیسے شعبوں پر توجہ دی، ساتھ ہی خواتین اور اقلیتوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کی۔ ان شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ بینظیر بھٹو نے نوجوانوں اور خواتین کو سیاسی میدان میں شرکت کی ہمت دی۔تقریب میں کہا گیا کہ بینظیر بھٹو نے آمریت کے اندھیروں میں جمہوریت کی شمع کو روشن رکھا؛ جلاوطنی، قید اور ذاتی قربانیوں کے باوجود آئین، پارلیمنٹ اور عوامی حقِ حکمرانی کا دفاع جاری رکھا۔ یہی اصولی موقف ان کی سیاست اور شخصیت کی بنیاد تھا۔شرکاء نے بین الاقوامی سطح پر بینظیر بھٹو کے معتدل رویے اور ملک کے وقار کو بہتر بنانے کی کوششوں کو بھی سراہا اور کہا کہ ان کی شہادت نے قوم کو سوگوار کیا مگر ان کا نظریہ اور قربانیاں آج بھی رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔تقریب میں شہید رہنما کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے یہ عہد بھی کیا گیا کہ جمہوریت اور عوامی فلاح کے لیے ان کے نام پر جاری تحریک کو آگے بڑھایا جائے گا تاکہ بینظیر بھٹو کے اصول اور وژن زندہ رہیں۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے