بنّو ضلع میں ایک منظم اور وسیع آپریشن جاری ہے جس کا ہدف غیرقانونی افغان شہری ہیں اور مقامی انتظامیہ نے ضلع بھر میں کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ضلع پولیس افسر یاسر آفریدی کی واضح ہدایات اور نائب ضلع پولیس افسران کی براہ راست نگرانی میں مختلف تھانوں کی حدود میں مربوط چھاپے مارے گئے جن میں مقامی سطح تک صورتحال کی چھان بین شامل ہے۔آپریشن کے دوران ایک سو انچاس افغان شہریوں کو حراست میں لیا گیا جبکہ پینتیس ایسے سہولت کار جن میں مکان مالکان اور دکاندار شامل ہیں، کے خلاف بھی مقدمات درج کیے گئے اور قانونی کارروائی شروع کر دی گئی۔حکومت کی بارہا دی گئی ہدایات اور خود مالی طور پر وطن واپس جانے کی درخواستوں کے باوجود متعدد افراد نے رضاکارانہ واپسی کو سنجیدہ نہ لیا جس کے باعث غیرقانونی افغان شہری باقاعدہ نگرانی کا موضوع بن گئے۔موجودہ قومی سلامتی کے پیش نظر انتظامیہ نے یہ فیصلہ کیا کہ غیرقانونی قیام کو حفاظتی خطرے کے طور پر دیکھا جائے گا اور کارروائی کی حد کو ضلع کی نچلی سطح تک بڑھا کر قانون اور نظم و ضبط کو یقینی بنایا جائے گا۔گرفتار کیے گئے افراد کے خلاف متعلقہ دفعات کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں اور تفتیشی عمل جاری ہے جبکہ سہولت کاروں کے خلاف بھی مقامی قوانین کے تحت قانونی چارہ جوئی شروع کی گئی ہے، تاکہ مستقبل میں ایسے جرائم کی سدِباب ممکن ہو سکے۔غیرقانونی افغان شہریوں کو واضح طور پر آگاہ کیا گیا ہے کہ ان کا موجودہ قیام غیرقانونی قرار پا چکا ہے اور ان کے مفاد میں ہے کہ وہ باعزت طور پر اپنے آبائی وطن واپس چلے جائیں تاکہ وہ غیر ضروری قانونی مشکلات اور سلامتی کے خدشات سے بچ سکیں۔
