امریکی حکومت کی مالی معاونت اور اسٹاپ ٹی بی پارٹنرشپ کے ‘نئے آلات’ منصوبے کی مدد سے بنگلہ دیش میں دوا مزاحم تپ دق کے خلاف جدید تشخیصی صلاحیتیں قائم کی گئی ہیں۔ قومی قومی تپ دق پروگرام کے ساتھ شراکت میں رفیمپسن مزاحم مریضوں کے نمونے ڈھاکہ کے آئ سی ڈی ڈی آر بی لیبارٹری کو ارسال کیے جاتے ہیں جہاں الومینا جیسی جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے بی پی اے ایل اور ایم کے علاجی منصوبے میں استعمال ہونے والی اہم ادویہ کے خلاف مزاحمت جلد معلوم کی جاتی ہے۔
٢٠٢٢ سے آئ سی ڈی ڈی آر بی میں ہدفی اگلی نسل سیکوئنسنگ کا استعمال شروع ہوا، جس نے تیز اور درست نتائج فراہم کیے۔ ملک بھر کے معالجین ان نتائج کی بنیاد پر ہر مریض کے لیے مخصوص علاج ترتیب دے رہے ہیں، جس سے زندگیوں کی بقا ممکن بن رہی ہے اور مزید دوائی مزاحمت پیدا ہونے کے امکانات کم ہو رہے ہیں۔ ایسی بروقت تشخیص سے دوا مزاحم تپ دق کے مریضوں کا علاج مؤثر اور محفوظ بن رہا ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر محمد عبدالشکور خان، سربراہ شعبۂ تنفسی طب، انور خان جدید طبی کالج اور ہسپتال، ڈھاکہ نے کہا کہ مالیکیولی ٹیکنالوجیاں جیسے ایکسپرٹ پلیٹ فارم اور ہدفی اگلی نسل سیکوئنسنگ کھیل بدل دینے والی ہیں۔ ایکسپرٹ رفیمپسن، آئسونیازائڈ اور فلووروکوانولون کے لیے تقریباً 2 گھنٹے میں ڈرگ سینسسٹیویٹی ٹیسٹ کے نتائج فراہم کرتا ہے جبکہ ہدفی اگلی نسل سیکوئنسنگ بیڈاکلوئن، پریٹو مینامِڈ اور لائنزولِڈ جیسے نئے اور دوبارہ استعمال ہونے والے ادویہ کے خلاف مزاحمت کی معلومات صرف 3 تا 4 دن میں دیتی ہے۔ پہلے ہمیں ان ادویہ کے لیے ڈرگ سینسسٹیویٹی کے نتائج کے انتظار میں 8 تا 12 ہفتے لگ جاتے تھے، مگر اب یہ وقت 3 تا 4 دن تک گھٹ گیا ہے۔
یہ پیش رفت بنگلہ دیش میں دوا مزاحم تپ دق کے خلاف طبی ردعمل کو تیز اور مؤثر بنانے کے لیے اہم قدم ہے۔ امریکی حکومت اور اسٹاپ ٹی بی پارٹنرشپ کی حمایت نے مقامی لیبارٹری صلاحیتوں کو مضبوط کیا ہے، جس سے نہ صرف تشخیصی رفتار میں اضافہ ہوا بلکہ معالجین کو علاج کی بہتر منصوبہ بندی کا موقع بھی میسر آیا ہے۔ دوا مزاحم تپ دق کے خلاف یہ جدید ٹیکنالوجی ملک بھر میں مریضوں کی بحالی اور کمیونٹی کی حفاظت میں مددگار ثابت ہو رہی ہے۔
