بلوچستان میں امن، ہم آہنگی اور ترقی کے لیے مشترکہ کاوشیں

newsdesk
3 Min Read

سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری اور آسٹریلوی ہائی کمشنر کے درمیان ملاقات، بلوچستان میں امن، بین المذاہب ہم آہنگی اور ترقی پر زور

اسلام آباد میں سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے پاکستان میں آسٹریلیا کے ہائی کمشنر کا خیرمقدم کیا اور بلوچستان میں امن، انسانی حقوق، معاشی مواقع اور کان کنی سمیت دیگر اہم امور پر تفصیلی گفتگو کی۔ اس ملاقات میں بلوچستان اور ملکی سطح پر حالیہ دہشت گردی کے واقعے پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کیا گیا اور شرکا نے اس بات پر اتفاق رائے ظاہر کیا کہ صوبے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے سیکیورٹی اقدامات کے ساتھ ساتھ سیاسی مکالمہ، سماجی و معاشی ترقی اور بین المذاہب ہم آہنگی پر زور دینے کی ضرورت ہے۔

ملاقات کے دوران سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے بلوچستان کو درپیش مسائل کی نشاندہی کی، جن میں ناکافی مواصلاتی سہولیات، محدود روزگار کے مواقع اور بہتر طرز حکمرانی کی ضرورت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں دیرپا استحکام کے لیے صرف سیکیورٹی کافی نہیں، بلکہ تعلیم، صحت، خواتین کے بااختیار بنانے اور بین المذاہب ہم آہنگی جیسے شعبوں میں سرمایہ کاری ناگزیر ہے تاکہ معاشرے میں ہم آہنگی کو فروغ ملے۔

آسٹریلوی ہائی کمشنر نے بلوچستان کے حالیہ دوروں کا حوالہ دیا اور کہا کہ وہاں نوجوان طلبہ، خصوصاً خواتین کی صلاحیت صوبے کی ترقی کی روشن امید ہے۔ انہوں نے جامعات میں کان کنی اور متعلقہ شعبوں کی تربیت پر زور دیا تا کہ مقامی آبادی کو بہتر ملازمت کے مواقع میسر آئیں، جبکہ معاشرتی ہم آہنگی کے فروغ اور بین المذاہب مکالمے کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔

مزدوروں کے حقوق، خاص طور پر کوئلہ کان کنی سے متعلق مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر ثمینہ زہری نے لیبر انسپکشن کے کمزور نظام، محنت کشوں کے فوائد اور محکموں کے وسائل کی کمی کی نشاندہی کی اور کہا کہ مزدوروں کی حفاظت، مناسب ریگولیشن اور سماجی فلاح کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔

ملاقات میں انسانی حقوق اور عورتوں کے تحفظ کو بھی مرکزی موضوع قرار دیا گیا۔ سینیٹر ثمینہ زہری نے جلد شادیوں، غیرت کے نام پر جرائم اور زچگی کے دوران خواتین کی ذہنی صحت کی دیکھ بھال جیسے مسائل پر روشنی ڈالی۔ آسٹریلوی ہائی کمشنر نے انسانی حقوق بالخصوص ذہنی صحت کی آگاہی، عمر قید جیسے جرائم میں کمی اور بین المذاہب مکالمے کے ذریعے برداشت کے فروغ کے لیے اپنی حمایت کا یقین دلایا۔

اختتام پر دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ بلوچستان میں پائیدار امن و استحکام کے لیے سب کی شمولیت پر مبنی ترقی، معاشی مواقع میں اضافہ، بین المذاہب ہم آہنگی اور بنیادی حقوق کا تحفظ بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ ملاقات کا اختتام ان نکات پر مشترکہ تعاون کے عزم کے ساتھ ہوا۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے