آذربائیجان کی آزادی کی بحالی کا 34واں یوم — ملک بھر میں قومی فخر کے ساتھ جشن، قومی پرچم آزاد علاقوں میں لہرا رہا ہے
اسلام آباد — آذربائیجان آج اپنی آزادی کی بحالی کا 34واں یوم قومی جوش و جذبے کے ساتھ منا رہا ہے۔ 18 اکتوبر 1991ء کو آذربائیجان کی سپریم کونسل نے "ریاستی آزادی ایکٹ” منظور کیا، جس کے تحت سوویت یونین کے خاتمے کے بعد آذربائیجان نے اپنی ریاستی خودمختاری بحال کی۔
یہ تاریخی دستاویز آذربائیجان جمہوریہ 1918ء کے اعلانِ آزادی کا تسلسل تھی، جس نے دنیا کو یہ باور کرایا کہ آذربائیجان کی قوم اپنی آزادی کی وارث اور محافظ ہے۔ بعد ازاں 29 دسمبر 1991ء کو عوام نے ایک ریفرنڈم کے ذریعے آزادی کے فیصلے کی توثیق کی۔
ابتدائی برسوں میں اندرونی خلفشار اور آرمینیا کی جارحیت نے ریاستی استحکام کے عمل کو نقصان پہنچایا۔ تاہم 1993ء میں عوامی مطالبے پر قومی رہنما حیدر علییف کے اقتدار میں واپسی نے آذربائیجان کو نئی سمت دی۔ ان کی قیادت میں ملک نے سیاسی استحکام، اقتصادی ترقی اور بین الاقوامی سطح پر مؤثر مقام حاصل کیا۔
"کانٹریکٹ آف دی سنچری” اور باکو–تبلیسی–جیہان پائپ لائن جیسے بڑے منصوبے حیدر علییف کے وژن کا نتیجہ ہیں، جنہوں نے آذربائیجان کو عالمی توانائی کے نقشے پر ایک اہم ملک بنا دیا۔ ان کی دوراندیش پالیسیوں نے قومی خودمختاری کو دائمی اور ناقابلِ تنسیخ بنیادوں پر مستحکم کیا۔
آج ان کا وژن صدر الہام علییف کی قیادت میں کامیابی سے جاری ہے۔ صدر علییف کی قیادت میں آذربائیجان نے 2020ء کی 44 روزہ وطنِ جنگ میں تاریخی کامیابی حاصل کی اور تقریباً تیس سال سے زیرِ قبضہ علاقوں کو آزاد کرایا۔
ستمبر 2023ء میں آذربائیجان نے کاراباخ کے علاقے میں انسدادِ دہشت گردی کارروائی کے ذریعے اپنی مکمل خودمختاری بحال کرلی۔ اب آذربائیجان کا تین رنگوں والا قومی پرچم آزاد شدہ علاقوں میں فخر سے لہرا رہا ہے۔
آزادی کے بعد حکومت نے کاراباخ اور مشرقی زنگی زور میں وسیع پیمانے پر بحالی و تعمیر نو کے منصوبے شروع کیے ہیں، جن کے تحت ہزاروں بے گھر افراد کو واپس ان کے آبائی علاقوں میں آباد کیا جا رہا ہے۔ سڑکیں، اسکول، اسپتال اور توانائی کے منصوبے تیزی سے مکمل کیے جا رہے ہیں — جو قوم کے عزم و حوصلے کی علامت ہیں۔
اس سال آزادی کی سالگرہ اس احساسِ فخر کے ساتھ منائی جا رہی ہے کہ آذربائیجان اب ایک فاتح اور مکمل خودمختار ریاست بن چکا ہے، جس نے اپنی سرزمین واپس لے کر تاریخ رقم کی ہے۔
سرکاری بیان میں کہا گیا کہ پاکستان ان اولین ممالک میں شامل تھا جنہوں نے آذربائیجان کی آزادی کو تسلیم کیا۔ دونوں ممالک کے درمیان دوستی، بھائی چارے اور باہمی تعاون کے دیرینہ تعلقات کو آذربائیجان کی قیادت نے خاص طور پر سراہا ہے۔
