ایپل کے سی ای او ٹم کک نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی اہمیت آئی فون سے بھی زیادہ ہے، اور ایپل اس ٹیکنالوجی پر بھرپور توجہ دے رہا ہے۔ اگرچہ ایپل ابتدا میں اے آئی کی دوڑ میں پیچھے رہا، لیکن اب کمپنی اپنی حکمت عملی کے تحت نمایاں پیش رفت کے لیے تیار ہو رہی ہے۔
ٹم کک کے مطابق، ایپل اپنی مصنوعی ذہانت کو ذاتی اور بڑے پیمانے پر چلانے کے لیے اندرون خانہ سرور چپس تیار کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، کمپنی اپنے ورچوئل اسسٹنٹ سری میں نمایاں بہتری لا رہی ہے، جسے ایک نئے انداز میں پیش کیا جائے گا تاکہ صارفین کو مزید فائدہ پہنچایا جا سکے۔
ایپل نے اے آئی کے میدان میں ریسرچ اور ڈیولپمنٹ کے عمل کو تیز کرنے کے لیے ہزاروں انجینئرز کی خدمات حاصل کر لی ہیں۔ کمپنی مستقبل کے جدید ترین پروڈکٹس متعارف کروانے کا ارادہ رکھتی ہے جن میں فولڈ ایبل آئی فون بھی شامل ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ایپل نے اے آئی کی ابتدا میں فعال کردار ادا نہیں کیا، لیکن وہ اب اس میدان میں سبقت لے جانے کے لیے پرعزم ہے۔ اس پیشرفت کے تحت صارفین ایپل کی اگلی نسل کی مصنوعات اور خدمات سے مستقبل قریب میں استفادہ کر سکیں گے۔
