ایک قومی مشاورت میں عالمی پروگرام برائے خوراک پاکستان نے قومی ادارہ برائے آفات، یورپی یونین کے سول تحفظ اور انسانی امداد کے شعبے اور دیگر اہم شراکت داروں کے ساتھ مل کر پیشگی اقدام کو مضبوط بنانے پر غور کیا۔ یہ پہل موسمیاتی خطرات سے قبل زندگیوں اور روزگار کے تحفظ کے سلسلے میں قدم اٹھانے کی کوشش کا حصہ ہے۔اجلاس میں سرکاری اداروں، اقوامِ متحدہ کے مختلف اداروں، عطیہ دہندگان، علمی حلقوں اور سول سوسائٹی کے ۸۰ سے زائد نمائندوں نے شرکت کی اور عملی ترجیحات پر مفصل گفتگو کی۔ شرکاء نے زور دیا کہ پالیسی میں زمینی حقائق اور مقامی ترجیحات کو مرکزی حیثیت دی جائے۔مباحثے میں بنیادی طور پر چار عملی پہلوؤں پر توجہ دی گئی: ابتدا میں مضبوط اور بروقت اطلاع دہی نظام تیار کرنا تاکہ خطرات بر وقت عوام تک پہنچیں، اداروں کے درمیان معلومات کے مؤثر اشتراک کے ذریعے فیصلے تیز اور باخبر بنانا، ایسے مالیاتی طریقہ کار کو یقینی بنانا جو بحران سے پہلے امداد جاری کر سکیں، اور مقامی سطح پر تیاری کو مضبوط کرنا تا کہ عمل جلدی اور مؤثر انداز میں نافذ ہو۔ ان باتوں میں پیشگی اقدام کو کلیدی حیثیت دی گئی تاکہ قبل از حادثہ مدد ممکن بنائی جا سکے۔شرکاء نے کہا کہ قومی سطح کی اس مشاورت کے بعد صوبائی سطح پر بھی مشاورتی اجلاس منعقد کیے جائیں گے جہاں مقامی حکام اور برادریاں براہِ راست شامل ہوں گی تاکہ قومی پیشگی اقدام کی حکمتِ عملی زمینی حقائق اور مقامی ضروریات کے عین مطابق مرتب ہو۔ اس طرح فیصلے نہ صرف مرکزیت کی بجائے شمولیتی اور عملی ہوں گے۔اس عمل میں خوراک و زراعت کی بین الاقوامی تنظیم پاکستان اور پائیدار ترقی پالیسی ادارہ بھی شریک رہے اور انہوں نے مقامی تیاری، معلوماتی سہولت اور مالی امداد کے موثر انتظام پر اپنا تجربہ شیئر کیا تاکہ پیشگی اقدام حقیقی معنوں میں زندگیاں اور روزگار بچانے میں کارگر ثابت ہو۔
