علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی داخلوں کا سکینڈل

6 Min Read
علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں مبینہ غیرقانونی پی ایچ ڈی داخلوں کے خلاف کم از کم دس طلبہ نے فوری تحقیقات اور تحفظ کا مطالبہ کر دیا ہے۔

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی داخلوں کا سکینڈل، غیرقانونی انرولمنٹ، دھمکیوں اور کیریئر تباہی کے الزامات

اسلام آباد  — علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی (AIOU) میں ایک سنگین تعلیمی سکینڈل سامنے آیا ہے جہاں پی ایچ ڈی اسکالرز نے یونیورسٹی انتظامیہ پر قومی ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیرقانونی داخلے دینے اور بعد ازاں کئی سال کی تعلیم کے بعد ذمہ داری سے دستبردار ہونے کے الزامات عائد کیے ہیں، جس کے نتیجے میں متاثرہ طلبہ کی ڈگریاں اور پیشہ ورانہ مستقبل شدید خطرے سے دوچار ہو گئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق اگست 2023 کے سیشن میں اردو پی ایچ ڈی پروگرام میں داخلہ لینے والے کم از کم دس طلبہ نے ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC)، وفاقی وزارتِ تعلیم اور وزیراعظم کے شکایتی سیل کو باضابطہ درخواستیں جمع کرائی ہیں۔ شکایات میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ انہیں لازمی اہلیت پوری نہ کرنے کے باوجود داخلہ دیا گیا اور تقریباً تین سالہ کورس ورک اور تحقیق کے بعد زبانی طور پر آگاہ کیا گیا کہ ان کی ڈگریاں ایچ ای سی سے تسلیم شدہ نہیں ہوں گی، جس سے ان کی تمام محنت ضائع ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

اس تنازعے کی جڑ ایچ ای سی پی ایچ ڈی پالیسی 2021 کی مبینہ خلاف ورزی بتائی جا رہی ہے، جس کے تحت کسی بھی پی ایچ ڈی پروگرام میں داخلے کے لیے کم از کم سی جی پی اے 3.0 یا فرسٹ ڈویژن ہونا لازمی ہے۔ شکایات کے ساتھ منسلک دستاویزات کے مطابق متعدد امیدواروں کو “بی گریڈ” یا سیکنڈ ڈویژن کے ساتھ داخلہ دیا گیا، جن کے نمبرز 61 سے 69 فیصد کے درمیان تھے۔ متاثرہ طلبہ میں عبید الرحمن (69٪)، انیس الحسنین (65٪)، احمد سعید (65٪)، تنویر احمد (65٪)، نادیہ بشیر (64٪)، شمشیر (64٪)، شاہد اسلم (64٪)، ساجد عباس (64٪)، یاسر اقبال (62٪) اور فرزند علی (61٪) شامل ہیں۔

اسکالرز کا کہنا ہے کہ داخلے کے وقت ان کے تعلیمی ریکارڈ مکمل طور پر یونیورسٹی کے سامنے موجود تھے اور کسی قسم کی معلومات چھپائی نہیں گئیں۔ ان کے مطابق یونیورسٹی نے فیس وصول کی، انرولمنٹ جاری کی، کورس ورک مکمل کروایا اور سپروائزرز بھی مقرر کیے، مگر بعد میں اپنی ذمہ داری سے انکار کر دیا۔ تحریری درخواست میں طلبہ نے شدید مالی اور ذہنی دباؤ کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ کئی افراد نے ملازمتیں چھوڑیں، گھریلو جمع پونجی خرچ کی اور قرض لے کر تعلیم حاصل کی، جو اب ضائع ہونے کے خطرے سے دوچار ہے۔

معاملہ محض انتظامی غفلت تک محدود نہیں رہا بلکہ دھمکیوں اور ہراسانی کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔ شکایت میں اردو ڈیپارٹمنٹ کے سابق سربراہ، جو اس وقت ڈین کے عہدے پر فائز ہیں، پر داخلوں کی منظوری دینے اور بعد ازاں اعتراضات دبانے کے لیے اختیارات کے غلط استعمال کا الزام لگایا گیا ہے۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ انہیں زبانی طور پر ہراساں کیا گیا، تضحیک کا نشانہ بنایا گیا اور خبردار کیا گیا کہ اگر معاملہ اٹھایا گیا تو نتائج خراب کیے جائیں گے، سپروائزر بدلے جائیں گے یا تحقیقاتی کام میں رکاوٹیں ڈالی جائیں گی۔

مزید یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ شعبے میں اقربا پروری پائی جاتی ہے اور موجودہ انتظامیہ کے اعلیٰ حکام سے قریبی خاندانی تعلقات ہیں، جس کے باعث ایک ایسا بند نظام قائم ہو چکا ہے جہاں اندرونی احتساب ممکن نہیں رہا۔ متاثرہ طلبہ کے مطابق اسی طاقت کے ارتکاز نے انہیں یونیورسٹی کے اندر کسی مؤثر فورم سے محروم کر دیا ہے۔

شکایت میں اس معاملے کو ایک وقتی غلطی کے بجائے مسلسل غفلت کا تسلسل قرار دیا گیا ہے۔ طلبہ نے 2017 کے ایک سابقہ کیس کا حوالہ بھی دیا ہے جس میں مبینہ طور پر کم سی جی پی اے کے حامل پی ایچ ڈی امیدوار کو داخلہ دیا گیا تھا اور بعد میں ایچ ای سی نے اس کی ڈگری کی تصدیق سے انکار کر دیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس مثال کے باوجود شعبے نے نااہل امیدواروں کو داخلے دینا جاری رکھا، جس سے طلبہ کو طویل المدتی تعلیمی نقصان پہنچا۔

وفاقی حکام کو دی گئی درخواست میں متاثرہ اسکالرز نے داخلہ پالیسی کی آزادانہ تحقیقات، تعلیمی انتقامی کارروائی سے تحفظ اور اس بات کے واضح فیصلے کا مطالبہ کیا ہے کہ آیا ان کے داخلے باقاعدہ کیے جائیں گے یا ان کی ڈگریوں کو ایچ ای سی سے تسلیم کرایا جائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری کارروائی نہ کی گئی تو وہ عدالتی چارہ جوئی اور احتسابی اداروں سے رجوع کرنے پر مجبور ہوں گے۔

اس حوالے سے وائس چانسلر اور ڈین سے مؤقف جاننے کے لیے رابطہ کیا گیا تاہم رپورٹ فائل ہونے تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ یہ معاملہ سرکاری جامعات میں گورننس، شفافیت اور ضابطوں پر عملدرآمد سے متعلق سنگین سوالات اٹھا رہا ہے اور اعلیٰ تعلیم میں انتظامی بدعنوانی کے انسانی اثرات کو نمایاں کر رہا ہے۔

Copied From: AIOU PhD admission controversy, scholars claim illegal enrolment

Share This Article
ندیم تنولی اسلام آباد میں مقیم ایک صحافی ہیں جو پارلیمانی امور، موسمیاتی تبدیلی، گورننس کی شفافیت اور صحت عامہ کے مسائل پر گہرائی سے رپورٹنگ کے لیے پہچانے جاتے ہیں۔
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے