جماعت اوّل تا بارہویں کے لیے مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کا نصاب منظور
مستقبل سے ہم آہنگ تعلیم کی جانب ایک بڑا قدم
اسلام اآباد: پاکستان کے قومی تعلیمی نظام میں مصنوعی ذہانت (AI) اور روبوٹکس کی شمولیت مستقبل سے ہم آہنگ اور ٹیکنالوجی پر مبنی تعلیم کی جانب ایک اہم سنگِ میل ہے۔سیکرٹری، وزارتِ وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت (MoFE&PT) کی ہدایت پر نیشنل کریکولم کونسل (NCC) وِنگ نے جماعت اوّل تا بارہویں کے لیے مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کا نصاب حتمی شکل دے کر باقاعدہ طور پر نافذ کر دیا ہے۔ یہ نصاب طلبہ کو کمپیوٹیشنل ٹیکنالوجی، جدید نظام، روبوٹکس ڈیزائن کو ذمہ دارانہ استعمال اور حقیقی مسائل کے حل کیلئے تیا ر کیا گیا ہے۔
یہ نصاب ترقی کے مختلف مراحل کو مدِنظر رکھتے ہوئے ترتیب دیا گیاہے، عملی طریقہ کار سیکھنے پر زور دیتا ہے، جو قومی ترقیاتی ترجیحات اور بین الاقوامی طریقۂ کار سے ہم آہنگ ہے۔ اس کا مقصد طلبہ میں جدت، تخلیقی صلاحیت اور تنقیدی سوچ کو فروغ دینا ہے اور انہیں مستقبل کی معیشت اور معاشرے کو تشکیل دینے والی جدید ٹیکنالوجیز سے ہم آہنگ کرنا ہے ۔نوٹیفکیشن کے بعد یہ نصاب متعلقہ صوبائی محکمہ تعلیم، نصاب ساز اداروں، اساتذہ کی تربیت کے اداروں اور امتحانی بورڈز کو فراہم کیا جائے گا تاکہ یہ نصاب اساتذہ کی صلاحیت کو مزید نکھارے۔یہ اقدام وزارت کی اس وابستگی کی عکاسی کرتا ہے کہ STEM تعلیم کو مضبوط بنایا جائے، ڈیجیٹل خواندگی کو فروغ دیا جائے اور طلبہ کو ایسی مہارتیں فراہم کی جائیں جو انہیں نہ صرف آج کے چیلنجز بلکہ کل کے مواقع کے لیے بھی تیار کریں۔
