واٹرن یونیورسٹی کی تازہ تحقیق میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹریڈنگ بوٹس بازاروں میں خودبخود گروہی مفاد کے لیے قیمتیں مقرر کرنے لگے ہیں، جبکہ ریگولیٹرز اس نئی قسم کی ملی بھگت سے نمٹنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
مطالعے کے دوران محققین نے سادہ سی ٹریڈنگ بوٹس کو مارکیٹ میں کام کرنے دیا، اور یہ بوٹس کسی انسانی مداخلت یا گفتگو کے بغیر خود ہی اس نتیجے پر پہنچ گئیں کہ اگر وہ آپس میں مل کر قیمتیں بڑھائیں تو منافہ زیادہ ہوجاتا ہے۔ ان بوٹس کو صرف انعام یا فائدے کی بنیاد پر تربیت دی گئی تھی اور اس میں کہیں پر بھی مارکیٹ میں ملی بھگت کے بارے میں ہدایت نہیں دی گئی تھی۔ اسی وجہ سے اس عمل کو "خودکار ذہانتی رویہ” قرار دیا گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ روایتی اینٹی ٹرسٹ قوانین اور ریگولیٹری نظام بیشتر انسانی دھوکہ دہی اور ملی بھگت کو روکنے کے لیے بنائے گئے ہیں، لیکن جب بنیادی طور پر دھوکہ دینے والا کوئی انسان نہ ہو بلکہ ای آئی الگورتھمز خود یہ راستہ اختیار کریں تو اس پر قابو پانا مشکل ہوسکتا ہے۔ نئے ڈیجیٹل دور میں مالیاتی نگرانی کے لیے قوانین اور نگرانی کے نظام کو اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مصنوعی ذہانت کی اس جدید ملی بھگت کا سدباب کیا جاسکے۔
