تحریر نیئر نوید
افضل صدف ہارل کی زندگی محنت، علم اور خدمت کا منفرد امتزاج ہے۔ چھوٹے سے گاؤں کے باسی سے لے کر فوجی، محقق، سول سروس افسر اور شاعر تک کے سفر نے ان کی ثابت قدمی اور جذبۂ خدمت کو واضح طور پر اجاگر کیا ہے۔
ابتدائی زندگی اور پس منظر: افضل صدف ہارل کا تعلق چک نمبر 241/جے بی منگوانہ، تحصیل بھوانہ، ضلع چنیوٹ سے ہے۔ دیہی ماحول سے اٹھ کر انہوں نے تعلیمی اور پیشہ ورانہ میدان میں نمایاں ترقی کی۔
فوجی خدمات اور تعلیمی سفر: اپنی پیشہ وارانہ ابتدا پاک فوج سے کی جہاں انہوں نے خاص طور پر شمالی وزیرستان جیسے مشکل اور حساس علاقوں میں فرائض انجام دیے۔ علمی شوق نے انہیں آگے بڑھایا اور انہوں نے ایم فل (بین الاقوامی تعلقات) مکمل کرنے کے بعد سیاسیات میں ڈاکٹریٹ کے مقالے جمع کروائے اور پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔
سول سروس اور پیشہ ورانہ فرائض: ان کی نظم و ضبط اور صلاحیتوں کی بنیاد پر انہیں سول سروس آف پاکستان میں منتخب کیا گیا اور انہوں نے آفس مینجمنٹ گروپ میں شمولیت اختیار کی۔ موجودہ طور پر وہ وزارتِ آبی وسائل، اسلام آباد میں سیکشن آفیسر کے عہدے پر فائز ہیں جہاں وہ واپڈا، آئ آر ایس اے، پی سی آر ڈبلیو آر، پی سی آئی ڈبلیو اور سی ای اے / سی ایف ایف سی جیسے اہم قومی اداروں سے متعلق امور نمٹاتے ہیں۔ انہوں نے اسٹبلشمنٹ ڈویژن میں بھی خدمات انجام دیں اور بطور نمائندہ پاکستان کی جانب سے سرکاری دوروں میں شریک رہے، جن میں عوامی جمہوریہ چین کا سرکاری دورہ بھی شامل ہے۔
تحقیق، ادبی خدمات اور فلاحی کردار: سرکاری فرائض کے علاوہ افضل صدف ہارل تحقیق، تالیف اور شاعری کے میدان میں بھی فعال ہیں۔ ان کی شعری مجموعہ "یہاں بھی ایک شام” قارئین کی دلچسپی کا باعث ہے۔ وہ مختلف فلاحی تنظیموں میں بھی سرگرم کردار ادا کرتے ہوئے معاشرے کی بہتری کے لیے حصہ ڈالتے ہیں۔
خلاصہ: ایک چھوٹے سے گاؤں سے نکل کر ریاستی اداروں اور ادبی حلقوں تک پہنچنے والا یہ سفر ثابت کرتا ہے کہ استقامت، محنت اور علم انسان کو بلند مقام تک پہنچا سکتے ہیں۔
