عبدالرشید جونیئر کو پاکستان ہاکی کے صف اول کے فاورڈز میں شمار کیا جاتا ہے جنہوں نے طویل عرصے تک پاکستان کی نمائندگی میں گول اسکور کرنے میں مستقل مزاجی دکھائی۔ ان کی ہدف پر درست نظر اور میچ کے مشکل لمحات میں کارکردگی انہیں ایک ممتاز کھلاڑی بناتی ہے۔
ان کی بین الاقوامی شہرت کا آغاز ۱۹۶۸ اولمپکس سے ہوا جہاں انہوں نے پہلی دفعہ عالمی سطح پر نمایاں کارکردگی دکھائی اور قومی ٹیم کے ساتھ سنہری تمغہ جیتنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اسی ٹورنامنٹ میں وہ پاکستان کے مشترکہ زیادہ اسکور کرنے والے کھلاڑی بھی رہے۔
عبدالرشید جونیئر نے ۱۹۷۱ کے پہلے ہاکی ورلڈ کپ میں بھی پاکستان کی فتح میں اہم کردار نبھایا، جس سے ان کے کیریئر میں عالمی کامیابی کا ایک اور بڑا سنگ میل جڑا۔ اس جیت نے ان کی بین الاقوامی شہرت کو مزید مستحکم کیا۔
۱۹۷۲ کے اولمپکس میں انہوں نے دوبارہ پاکستان کے لیے سب سے زیادہ گول کیے اور ٹیم کو سلور میڈل تک پہنچانے میں مدد دی۔ بعد ازاں ۱۹۷۶ کے اولمپکس میں بھی ٹیم نے برانز میڈل حاصل کیا، اور اس طرح عبدالرشید جونیئر واحد ایسے پاکستانی کھلاڑی بنے جن کے پاس سنہری، چاندی اور کانسی کے سبھی اولمپک تمغے موجود ہیں۔
ریٹائرمنٹ کے وقت ان کے بین الاقوامی گولز کی تعداد ۹۶ تھی جو اس وقت پاکستان کے لیے ایک قومی ریکارڈ تھا۔ یہ ریکارڈ ان کے مستقل حملہ آور کردار اور لمبے دورانیے تک اعلیٰ سطح پر کارکردگی کی عکاسی کرتا ہے۔
عبدالرشید جونیئر کو بطور فاورڈ ان کی مہارت، قائدانہ صلاحیت اور مشکل حالات میں گول کرنے کی صلاحیت کے باعث یاد رکھا جاتا ہے۔ پاکستان ہاکی میں ان کی کامیابیاں نئے کھلاڑیوں کے لیے معیار کا درجہ رکھتی ہیں اور ان کا نام قومی کھیل کی تاریخ میں اہم مقام پر درج ہے۔
عبدالرشید جونیئر پاکستان کے معروف فاورڈ
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔
