قازقستان کے عظیم شاعر، مفکر اور مصلح ابائے قونان بائی اُلی کی 180ویں سالگرہ کے موقع پر ان کی ادبی اور فکری خدمات کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا جا رہا ہے۔ ابائے قونان بائی اُلی کو قازق قوم کے ایک ممتاز سپوت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے، جن کا علمی اور روحانی ورثہ آج بھی کئی نسلوں کے لیے مشعل راہ ہے۔
ابائے (1845–1904) نے عالمی ادب کی تاریخ میں گہرا نقش چھوڑا۔ ان کی شاعری اور نثر میں محبت وطن، اخلاقیات، محنت، علم اور انصاف جیسے ابدی موضوعات کو اجاگر کیا گیا ہے۔ ان کی مشہور تصنیف ’’کتابِ کلمات‘‘ میں انہوں نے زندگی کے مفہوم، انسانی فطرت اور باہمی ہم آہنگی کے حصول پر سیر حاصل گفتگو کی ہے۔ ابائے کا علمی ورثہ علم و حکمت کا ذریعہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک جامع ذہنی شخصیت کی تربیت میں بھی معاون ثابت ہوا ہے۔
ابائے کی ’’کتابِ کلمات‘‘ کو پہلی مرتبہ پاکستان کی چار سرکاری زبانوں – پشتو، پنجابی، سندھی اور بلوچی – میں ترجمہ کر کے بارہویں قازقستان-پاکستان بین الحکومتی کمیشن کے اجلاس کے موقع پر پیش کیا گیا۔ اس اہم موقع پر دونوں ممالک کے درمیان تجارتی، معاشی، سائنسی، تکنیکی اور ثقافتی تعاون کو مزید فروغ دینے کے امکانات پر بھی گفتگو ہوئی۔
ابائے کی ’’کتابِ کلمات‘‘ کی سرکاری تقریبِ رونمائی نیشنل لائبریری آف پاکستان، اسلام آباد میں منعقد ہوئی، جس میں ادبی و علمی حلقوں نے بھرپور شرکت کی۔ یہ اقدام پاکستان اور قازقستان کے درمیان ثقافتی تعلقات کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اور مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
