کالج برائے سیاحت کے سی ای او کی اقوام متحدہ میں تاریخی نمائندگی

newsdesk
2 Min Read
احمد شفیق نے ریاض میں اقوام متحدہ کی سیاحت تنظیم کی ۲۶ویں اسمبلی میں پاکستان کی اولین تعلیمی نمائندگی کر کے قومی وقار بڑھایا۔

احمد شفیق نے ریاض میں منعقدہ اقوام متحدہ کی سیاحت تنظیم کی ۲۶ویں جنرل اسمبلی میں پاکستان کی نمائندگی کی، جو ۷ تا ۱۱ نومبر ۲۰۲۵ کو ہوئی۔ اس نمائندگی نے نہ صرف ملک کی سیاحتی شبیہ کو بین الاقوامی فورم پر مضبوط کیا بلکہ پاکستانی سیاحت اور ہاسپٹیلٹی کے تعلیمی شعبے کی عالمی شناخت میں بھی نمایاں اضافہ کیا۔احمد شفیق، کالج برائے سیاحت و ہوٹل مینجمنٹ کے بانی و سربراہ کے طور پر، سیاحت کی تعلیم اور پیشہ ورانہ معیار کے فروغ کے لیے جانے جاتے ہیں۔ وہ ہوٹلنگ اور سیاحت کے شعبے کے پہلے پاکستانی تعلیمی رہنما ہیں جنہوں نے اس سطح کی عالمی اسمبلی میں شرکت کی، اور ان کی شرکت نے ظاہر کیا کہ پاکستان پائیدار سیاحت اور ہاسپٹیلٹی ایجوکیشن میں سنجیدہ پیش رفت کر رہا ہے۔اس اجلاس کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ اسی موقع پر عالمی سیاحت تنظیم اپنی ۵۰ویں سالگرہ منا رہی تھی، جس میں دنیا بھر کے رہنما، پالیسی ساز اور جدت پسند شرکت کر کے مستقبل کی سمت متعین کر رہے تھے۔ احمد شفیق کی موجودگی نے پاکستان کے اقوامِ متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف کے تحت تعلیم، اشتراک اور ترقی پر مبنی موقف کو تقویت دی۔کالج برائے سیاحت و ہوٹل مینجمنٹ کی قیادت میں کیے جانے والے اقدامات نے بین الاقوامی معیار قائم کرنے اور عالمی شراکت داریاں بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ صنعت کے مبصرین احمد شفیق کو وہ قائد قرار دیتے ہیں جنہوں نے تعلیمی دنیا، کاروباری شعبے اور عالمی سیاحتی اداروں کے درمیان پُل قائم کیا، جس سے پاکستان کا بین الاقوامی امیج بہتر ہوا ہے۔احمد شفیق کی نمائندگی نے یہ پیغام دیا کہ پاکستان عالمی سیاحت کے مکالمے میں فعال حصہ لینے کے لیے تیار ہے اور ملکی صلاحیتوں کو بین الاقوامی سطح پر پیش کرنے میں پختہ ارادہ رکھتا ہے۔ اس تاریخی نمائندگی نے وطن کے لیے فخر اور مستقبل کے مواقع کی امید کو بڑھایا ہے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے