کنٹرول لائن کے دونوں اطراف اور دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں نے یوم شہدائے جموں تجدید عہد کے ساتھ منایا اور اس عہد کا اعادہ کیا کہ جب تک کشمیری قوم حق خودارادیت حاصل نہیں کر لیتی شہداء کے مشن کو ہر قیمت پر جاری رکھا جائے گا۔سماجی رہنما اور صدر ترقی پسند فلاحی تنظیم محمد عامر صدیقی نے شہداء جموں کو شاندار خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان شہداء نے ایک مقدس مقصد کے لیے اپنی جانیں نچھاور کیں اور ان کی قربانیاں کبھی بھلائی نہیں جا سکتیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کشمیریوں کا مقدس خون رائیگاں نہیں جائے گا اور یوم شہدائے جموں منانے کا سب سے بہتر طریقہ یہی ہے کہ شہداء کے مشن کو اس کے مقصد تک پہنچایا جائے۔عامر صدیقی نے یاد دلایا کہ مہاراجہ ہری سنگھ کی فورسز، بھارتی فوج اور ہندوتوا عناصر نے نومبر 1947 کے پہلے ہفتے میں جب مسلمان پاکستان کی طرف ہجرت کر رہے تھے تو جموں کے مختلف علاقوں میں لاکھوں کشمیریوں کا قتل عام کیا گیا۔ 1947 میں جموں کی اس دل دہلا دینے والی نسل کشی کو دنیا کا بڑا سانحہ قرار دیا جاتا ہے اور اس کی یاد نسلوں کو ہمیشہ یاد رہے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ آج کشمیر کے استحصال اور بھارتی فوجی محاصرے کا دورانیہ 2286 دن ہو چکا ہے اور بھارت کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ عامر صدیقی نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ بےگناہ کشمیریوں پر بھارتی مظالم روکنے میں مؤثر کردار ادا کرے اور پاکستانی قوم کشمیریوں کی سیاسی، سماجی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گی۔یوم شہدائے جموں کے موقع پر زور دیا گیا کہ شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کا حقیقی راستہ ان کے مقصد کی تکمیل ہے اور ایک دن ضرور کشمیر بنے گا پاکستان، یہی کشمیریوں اور پاکستان کی عزم کی ترجمانی ہے۔
