فاطمہ جناح یونیورسٹی میں بین الاقوامی ڈیزائن کانفرنس کا آغاز

newsdesk
3 Min Read
فاطمہ جناح خواتین یونیورسٹی میں ثقافت، ٹیکنالوجی اور پائیداری کے موضوع پر تین روزہ بین الاقوامی ڈیزائن کانفرنس کے پہلے دو روز کامیابی سے مکمل ہوئے۔

فاطمہ جناح خواتین یونیورسٹی کے شعبہ کمپیوٹر آرٹس کی جانب سے منعقدہ تین روزہ بین الاقوامی بین الشعبہ جاتی ڈیزائن کانفرنس کے پہلے دو ایام پر علمی اور تخلیقی مباحث جاری رہے۔ اس کانفرنس کی سرپرستی پروفیسر ڈاکٹر سروت رسول نے کی جبکہ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر بشرا مرزا کی قیادت میں روال روایتی اور جدید موضوعات پر گفتگو ہوئی۔پہلے سیشن کی صدارت مسٹر احسان توقیم، جو کینیڈا سے آن لائن شریک تھے، نے کی اور کو چیئر ڈاکٹر قیصر خان تھے۔ اس سیشن میں نبیہا درّانی، جو ملائشیا کی یونیورسٹی میں بطور پی ایچ ڈی محققہ ہیں، نے تحقیقی مقالہ پیش کیا۔ اسی سیشن میں لاہور کالج برائے خواتین یونیورسٹی کے ادارہ ڈیزائن و بصری فنون کی ایک اسسٹنٹ پروفیسر اور فاطمہ جناح یونیورسٹی کی اسسٹنٹ پروفیسر افشاں جمال نے بھی اپنے خیالات اور مطالعات سے حاضرین کو مستفید کیا۔ مصور اور تعلیمی شعبے کی نمائندہ صدف حماد نے بصری تعلیم اور ڈیزائن کے عملی پہلوؤں پر خصوصی روشنی ڈالی۔دوسرے سیشن کی صدارت ڈاکٹر شافیہ ازم نے انجام دی اور کو چیئر کی ذمہ داری سجاد گل نے نبھائی جو پی ٹی وی میں مواد کے سربراہ کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ اس سیشن میں محویش مظفر بطور پی ایچ ڈی ریسرچ اسکالر اور ڈاکٹر ازما امتیاز نے فاطمہ جناح یونیورسٹی کی نمائندگی کی۔ شعبہ کمپیوٹر آرٹس کی لیکچرار درخشاں بتول اور نُزہت بشیر نے تعلیمی اور تخلیقی تجربات شیئر کیے جب کہ آوارنگ خان، ایم فل طالبعلم شعبہ جرنلزم و ماس کمیونیکیشن، یونیورسٹی آف پشاور نے میڈیا اور ڈیزائن کے تقابلی پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔شرکائے کانفرنس نے ثقافت، ٹیکنالوجی اور پائیداری کے باہمی تعلقات پر گہری دلچسپی کا اظہار کیا اور اس بات پر زور دیا گیا کہ تعلیمی ادارے اور صنعت مل کر پائیدار تخلیقی حل وضع کریں۔ ثقافت ٹیکنالوجی پائیداری کے موضوعات نے حاضرین میں وسیع بحث کو جنم دیا اور نوجوان محققین کے لیے نئے مواقع کے در وا کیے۔پہلے دو روز کی نشستوں میں مقالہ نگاری اور عملی مظاہروں نے جامع انداز پیش کیا اور فیکلٹی اور طالبات نے مباحث میں فعال شرکت کی۔ کانفرنس کے اختتام پر آئندہ سیشنز میں پائیدار ڈیزائن اور خواتین کے کلیدی کردار پر مزید تفصیلی مباحث کی توقع ظاہر کی گئی، جس سے ثقافت ٹیکنالوجی پائیداری کے شعبے میں مقامی اور بین الاقوامی تعاون کے امکانات روشن نظر آئے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے