ایم پی اے شازیہ جادون: خیبرپختونخوا میں (ن) لیگ کی خواتین قیادت کا نیا چہرہ
تحریر و تحقیق: چنگیز خان جدون
اسلام آباد – شازیہ جادون کی خیبرپختونخوا اسمبلی میں آمد پاکستان مسلم لیگ (ن) کی اس حکمتِ عملی کا تسلسل ہے جس کے تحت پارٹی صوبے میں اپنی سیاسی جڑیں مضبوط کرنے اور خواتین قیادت کو آگے لانے کے لیے پرعزم ہے۔ ہری پور سے خواتین کی مخصوص نشست (WR-16) پر منتخب ہونے والی شازیہ جادون نہ صرف (ن) لیگ کی خواتین ونگ کی فعال رکن ہیں بلکہ وہ ایک ایسی سماجی کارکن کے طور پر ابھری ہیں جو تعلیم، صحت اور بنیادی سہولیات جیسے عوامی مسائل کو قانون سازی کے ایجنڈے میں شامل کرنا چاہتی ہیں۔
ہری پور سے اسمبلی تک کا سفر
شازیہ جادون نے جولائی 2025 میں دیگر مخصوص نشستوں پر منتخب ارکان کے ساتھ خیبرپختونخوا اسمبلی کے 12ویں اجلاس میں حلف اٹھایا۔ خواتین کی مخصوص نشستوں کا نظام پاکستان کی قانون ساز اسمبلیوں میں خواتین کی نمائندگی بڑھانے کے لیے وضع کیا گیا ہے، جس کے ذریعے سیاسی طور پر سرگرم خواتین کو اسمبلی میں آنے کا موقع ملتا ہے۔ ان کے بایوڈیٹا میں بی ایڈ کی ڈگری، تعلیمی پس منظر اور مقامی سطح پر سماجی خدمات شامل ہیں — جو انہیں ایک ایسی امیدوار کے طور پر پیش کرتی ہیں جو خواتین کی فلاح اور تعلیم کے میدان میں مؤثر بات کر سکتی ہیں۔
خیبرپختونخوا میں مسلم لیگ (ن) کی حکمت عملی
خیبرپختونخوا طویل عرصے سے مختلف سیاسی نظریات کا میدان رہا ہے، اور مسلم لیگ (ن) اس صوبے میں اپنی جگہ بنانے کے لیے خواتین رہنماؤں کو آگے لانے کی پالیسی پر عمل کر رہی ہے۔ ہری پور سے خواتین کو مخصوص نشستوں پر نامزد کرنا (ن) لیگ کی ایک واضح کوشش ہے کہ وہ صوبے میں ایک متوازن اور شمولیتی سیاسی چہرہ پیش کرے۔ شازیہ جادون کی نامزدگی اس بات کا ثبوت ہے کہ پارٹی اپنی خواتین قیادت کو محض نمائشی حیثیت نہیں دینا چاہتی بلکہ انہیں عملی سیاست میں مؤثر کردار دینے کے لیے پُرعزم ہے۔
عوامی ترجیحات اور قانون سازی کا انداز
شازیہ جادون نے اپنے آپ کو ایک قابلِ رسائی اور خدمت گزار نمائندہ کے طور پر پیش کیا ہے۔ اسمبلی میں ان کی توجہ عملی مسائل پر مرکوز رہی ہے، جیسے ہری پور ٹراما سینٹر میں عملے کی کمی، صحت کی سہولیات میں بہتری، دیہی علاقوں میں سڑکوں اور تعلیمی اداروں کی ترقی۔ ان کے سوالات، تحاریک اور اسمبلی میں اٹھائے گئے نکات اس بات کا اظہار ہیں کہ وہ جذباتی تقاریر کے ساتھ ساتھ عملی قانون سازی پر بھی توجہ دے رہی ہیں۔
خواتین کی قیادت اور سماجی اثرات
شازیہ جادون کی سیاست نے یہ ظاہر کیا ہے کہ خواتین نمائندگان کس طرح روایتی صنفی رکاوٹوں کو توڑ کر سیاست میں فعال کردار ادا کر سکتی ہیں۔ ہری پور جیسے ضلع میں، جہاں سماجی اقدار خواتین کے عوامی کردار کو محدود کرتی ہیں، ایک خاتون رکنِ اسمبلی کی موجودگی نہ صرف علامتی اہمیت رکھتی ہے بلکہ خواتین کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک عملی مثال بھی ہے۔ شازیہ جادون اب بھی خواتین تنظیموں، تعلیمی اداروں اور فلاحی گروہوں کے ساتھ متحرک رابطے میں ہیں اور مقامی سطح پر خواتین کی تعلیم و خودمختاری کے لیے کوشاں ہیں۔
چیلنجز اور مواقع
اگرچہ شازیہ جادون کو عوامی سطح پر پذیرائی حاصل ہے، مگر مخصوص نشستوں پر آنے والی بیشتر خواتین کی طرح انہیں بھی پارٹی نظم و ضبط اور وسائل کی کمی جیسے چیلنجز درپیش ہیں۔ تاہم، تعلیم، خواتین کی فلاح اور صحت کے شعبے میں ان کی دلچسپی انہیں ایک واضح پالیسی ایجنڈا فراہم کرتی ہے جس پر وہ اسمبلی میں مؤثر انداز میں کام کر سکتی ہیں۔
ہری پور اور (ن) لیگ کا سیاسی مفاد
ہری پور کا ضلع نہ صرف سیاسی طور پر حساس بلکہ علامتی طور پر بھی مسلم لیگ (ن) کے لیے اہم ہے۔ شازیہ جادون جیسے رہنماؤں کو آگے لانا پارٹی کی اس حکمتِ عملی کا حصہ ہے جس کے تحت وہ خواتین کی قیادت کے ذریعے اصلاحات اور شمولیت کا پیغام دینا چاہتی ہے۔ یہ قدم (ن) لیگ کی قومی سطح پر اپنی ساکھ کو مضبوط کرنے کی علامت بھی ہے۔
علامتی نمائندگی سے عملی قیادت تک
پاکستان میں مخصوص نشستوں پر خواتین کی نمائندگی ہمیشہ بحث کا موضوع رہی ہے۔ ناقدین اسے "علامتی نمائندگی” کہتے ہیں، جبکہ حامیوں کے نزدیک یہ خواتین کو عملی سیاست میں لانے کا پہلا قدم ہے۔ شازیہ جادون کی کارکردگی اس بات کا تعین کرے گی کہ آیا وہ ایک روایتی نمائندہ بن کر رہتی ہیں یا ایک پالیسی اثر رکھنے والی قانون ساز کے طور پر ابھرتی ہیں۔
نتیجہ
شازیہ جادون کا سیاسی سفر ابھی آغاز پر ہے، مگر ان کی حکمت عملی، عوامی وابستگی اور سماجی پس منظر انہیں ایک موثر قانون ساز اور عوامی نمائندہ کے طور پر ابھرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ اگر وہ تعلیم، صحت اور خواتین کی خودمختاری پر فوکس برقرار رکھتی ہیں تو وہ نہ صرف (ن) لیگ بلکہ خیبرپختونخوا اسمبلی میں بھی خواتین کی مضبوط آواز بن سکتی ہیں۔
