پاکستان اور اقوام متحدہ کا ماحولیاتی جرائم سے تعاون

newsdesk
3 Min Read
اسلام آباد میں پاکستان اور اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات اور جرائم نے ماحولیاتی جرائم، غیرقانونی تجارت اور کٹائی کے خلاف مشترکہ منصوبے کا اعلان کیا

اسلام آباد میں 22 اکتوبر 2025 کو اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات اور جرائم کے نمائندے جناب ٹروئلز ویسٹر نے وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک سے ملاقات کی، جہاں ماحولیاتی جرائم کے بڑھتے ہوئے رجحانات پر تبادلۂ خیال ہوا۔ ملاقات میں ملک میں قدرتی وسائل کی حفاظت اور حکمرانی کے نظام کو مضبوط بنانے پر زور دیا گیا۔بات چیت کا مرکز غیرقانونی الیکٹرانک تجارت، منی لانڈرنگ اور منظم غیرقانونی کٹائی کے درمیان بننے والے تعلقات تھے جو ماحولیاتی جرائم کو فروغ دے رہے ہیں۔ شرکاء نے اس نکتے پر تشویش ظاہر کی کہ یہ نیٹ ورک نہ صرف فطری وسائل کو نقصان پہنچا رہے ہیں بلکہ اقتصادی اور سماجی استحکام کو بھی متاثر کر رہے ہیں۔ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ قومی قوانین اور پالیسیاں زیادہ مؤثر اور سخت بنائی جائیں، اور نفاذ کے میکانزم کو تقویت دی جائے تاکہ ماحولیاتی جرائم کا سدِ باب ممکن ہوسکے۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کے مابین تعاون اور معلومات کے تبادلے کی ضرورت پر خاص طور پر زور دیا۔جناب ٹروئلز ویسٹر نے پاکستان کی اس عزم کو تسلیم کیا اور اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات اور جرائم کی مکمل حمایت کی یقین دہانی کروائی۔ انہوں نے اپنے سابقہ تجربات کا حوالہ دیا جن میں پروگرام آفس انڈونیشیا اور میانمار میں پروگرام کوآرڈینیشن کے فرائض شامل رہے، اور کہا کہ وہ پاکستان کے ساتھ مشترکہ کوششوں میں تجربات شیئر کریں گے۔دونوں فریقین نے انٹر ایجنسی تعاون کو بہتر بنانے، قوانین اور نفاذی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور ایسے مشترکہ منصوبے بنانے پر اتفاق کیا جو غیرقانونی سرگرمیوں کو روکنے کے ساتھ معیشت اور ماحول دونوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔ مشترکہ منصوبے کا مقصد ماحولیاتی جرائم کے خلاف مربوط حکمتِ عملی تیار کرنا ہوگا۔ملاقات میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ ماحولیاتی جرائم کے خلاف مؤثر کارروائی پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول اور عوامی مفاد کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔ دونوں اطراف نے اگلے مراحل میں قانونی اصلاحات، تربیتی پروگراموں اور اطلاعاتی شراکت داریوں پر کام شروع کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے