اسلام آباد: سماجی تنظیم پودا PODAکے زیر اہتمام لوک ورثہ میں منعقدہ 18 ویں سہ روزہ دیہی خواتین لیڈرشپ ٹریننگ کانفرنس کے دوسرے روز تمام شرکا نے یک زبان ہوکر تمام صوبائی اسمبلیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ تمام ملک میں لڑکے اور لڑکیوں کی شادی کی کم از کم عمر 18 سال قرار دیا جائے تاکہ کوئی بھی، کہیں بھی اس قانون کا استحصال نہ کر سکے۔PODAکی ایگزیکٹو ڈائیریکٹرPODAمحترمہ ثمینہ نذیر نے کانفرنس کے مہمانان گرامی کو ان کی دیہی خواتین کی حوالہ افزائی کرنے اور ان کی آواز میں آواز ملانے پر شکریہ کہا۔ آج کے تین پالیسی اجلاسوں میں سفیر آئرلینڈ برائے پاکستان محترمہ میری اونیل، سفیر نیپال برائے پاکستان محترمہ ریٹا دھتیال، قائم مقام سفیر تیونس محترمہ درساف معروفی، روانڈا کی ہائی کمشنر محترمہ حریریمنافتو، یمن کے سفیر برائے پاکستان محترم محمد مطاہر الاشابی سمیت کئی دیگر اہم افراد نے شرکت کی جن میں ڈاکٹر مارسلو گولیٹی(اولیو کلچر اسکیل اپ) محترمہ فوزیہ وقار( وفاقی محتسب برائے ہراسانی)، ,محترمہ ثمینہ فاضل(صدر اسلام آباد ویمن چیمبر آف کامرس),محترمہ حفضہ بخاری (ڈیپٹی اٹارنی جرنل، پاکستان), محترمہ سجیلہ خان (CABI), برگیڈیر ڈاکٹر مامونہ مشتاق، شامل ہیں۔ غیر ملکی سفارتکاروں نے کہا کہ ہم پاکستانی قوم کے جذبہ ایثار اور مہمان نوازی سے بے حد متاثر ہیں۔ انھوں نے اپنے اپنے ملک میں خواتین کی جدو جہد کا جائزہ پیش کیا۔ سفیر نیپال برائے پاکستان محترمہ ریٹا دھتیال نے کہا کہ پاکستانی قوم کے مشکل میں ایک دوسرے کے ساتھ جڑ کر کھڑے ہونے سے بے حد متاثر ہیں۔ سفیر آئرلینڈ برائے پاکستان محترمہ میری اونیل نے کہا کہ میرا بچپن ایک دیہی علاقے میں گزرا ہے اور آپکے درمیان آ کر مجھے ان خواتین کی سی انسیت محسوس ہو رہی ہے۔ یاد رکھیں کہ آپ کی ہر کوشش، ہر قدم کا بدلہ ملے گا۔ شاید آپ اس کے اثرات نہ دیکھ سکیں مگر آپ کے علاقے میں آنے والی نسلوں کی زندگیوں میں اس سب کے اثر نظر آئیں گے۔ آج کے اجلاس میں 90 ڈسٹرکٹ سے تقریبا 550 دیہی خواتین، چار سفارت خانوں کے نمائندگان، پاکستان سول سوسائٹی کے کارکنان، اور میڈیا کے ساتھیوں نے شرکت کی۔جگنی تھیٹر، نوابزادہ اسفند یار خٹک کے صوبہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے علاقائی رقص، اور علاقائی گیتوں سے کانفرنس شرکا محظوظ ہوئے۔
