تحمل،برداشت،صبر،افہام و تفہیم، خودی،قوموں کی ترقی کا راز
تحریر: ظہیر احمد اعوان
دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جن قوموں نے صبر، تحمل، برداشت، قانون کی پاسداری، افہام و تفہیم اور خودی کو اپنا شعار بنایا، وہی قومیں ترقی و عروج کی منازل طے کرتی گئیں۔ جب کہ جن معاشروں نے جلد بازی، انتقام، انا پرستی اور عدم برداشت کو رواج دیا، وہ زوال اور بربادی کے گڑھوں میں جا گرے۔ آج جب ہم اپنے اردگرد نظر ڈالتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ ہماری معاشرتی زندگی سے وہ تمام اوصاف رفتہ رفتہ مٹتے جا رہے ہیں جن پر ایک مضبوط اور مہذب قوم کی عمارت قائم ہوتی ہے۔
کوئی بھی معاشرہ تحمل، برداشت، صبر، استقامت، افہام و تفہیم اور خودی کے بغیر نہ پنپ سکتا ہے، نہ ترقی کر سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اور اسے عقل و شعور، سوچ و فہم اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت عطا کی۔ یہی وہ خصوصیات ہیں جو انسان کو باقی مخلوقات سے ممتاز بناتی ہیں۔ اگر یہی انسان ان صلاحیتوں کو انتقام، غرور اور عدم برداشت کے لیے استعمال کرے تو وہ جنگل کے قانون کی طرف لوٹ جاتا ہے، جہاں طاقت ہی سچ بن جاتی ہے۔
انسانی معاشروں کی اصل بنیاد قانون، اخلاقیات، انصاف اور بھائی چارے پر قائم ہے۔ جنگل میں کوئی اصول یا ضابطہ نہیں ہوتا، مگر انسان کی پہچان ہی قانون اور اخلاق کی پابندی ہے۔ آج جب دنیا ٹیکنالوجی کے عروج پر ہے، تو اس کے ساتھ ساتھ اخلاقیات اور برداشت کا دامن تھامنا پہلے سے زیادہ ضروری ہو گیا ہے۔ ترقی یافتہ وہی معاشرے ہیں جنہوں نے قانون کی عملداری اور اخلاقی تربیت کو ساتھ لے کر چلے۔
اسلام کا پیغامِ برداشت۔اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے، جو انسان کو نہ صرف عبادات بلکہ معاملات اور اخلاقیات میں بھی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ”
(سورۃ البقرہ: 153)
"بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔”
ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا گیا:
"وَجَزَاهُمْ بِمَا صَبَرُوْا جَنَّةً وَّحَرِیْرًا” (سورۃ الانسان: 12)
"اور ان کے صبر کے بدلے میں انہیں جنت اور ریشمی لباس دیا گیا۔”
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"المسلم من سلم المسلمون من لسانه و یده” (صحیح بخاری)
"مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔”
یہ حدیث ہمیں تحمل، رواداری اور دوسروں کے حقوق کے احترام کا سبق دیتی ہے۔ اسلام میں کسی کو تکلیف پہنچانا، خواہ وہ زبان سے ہو یا عمل سے، سختی سے منع کیا گیا ہے۔پاکستان کا آئین بھی انہی اصولوں کی بنیاد پر تشکیل پایا ہے۔
آرٹیکل 4 میں واضح کیا گیا ہے:
"قانون کی نظر میں سب برابر ہیں اور ہر شخص کو قانون کے مطابق تحفظ حاصل ہے۔”
جبکہ آرٹیکل 25 کہتا ہے:
"تمام شہری قانون کی نظر میں مساوی ہیں اور مساوی قانونی تحفظ کے حقدار ہیں۔”
لیکن افسوس کہ آج ہمارا معاشرہ قانون سے زیادہ طاقت اور اثر و رسوخ کا پابند بن چکا ہے۔ عدم برداشت اور انا پرستی نے معاشرتی اقدار کو کمزور کر دیا ہے۔ سیاست ہو یا مذہب، تعلیم ہو یا میڈیا — ہر سطح پر افہام و تفہیم کی جگہ الزام تراشی اور انتقام نے لے لی ہے۔ یہی وہ روش ہے جس نے ہماری اخلاقی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیا ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"تم سے پہلی قومیں اس لیے تباہ ہوئیں کہ وہ کمزوروں پر حد نافذ کرتی تھیں اور طاقتوروں کو چھوڑ دیتی تھیں۔”(صحیح بخاری)
یہ حدیث عدل و مساوات کی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔ اگر کسی معاشرے میں قانون امیر و غریب کے لیے الگ ہو جائے، انصاف طبقاتی شکل اختیار کر لے، اور جزا و سزا کا معیار ذاتی پسند و ناپسند پر مبنی ہو، تو وہاں ترقی محض خواب بن جاتی ہے۔”جس کی لاٹھی اس کی بھینس” کا قانون دراصل جنگل کا قانون ہے، جس کی انسانی معاشرے میں کوئی گنجائش نہیں۔ جو سب سے بڑا ہو، وہی سب سے زیادہ اخلاق، حلم، برداشت اور کردار میں بلند ہونا چاہیے۔ یہی بڑا پن ہے جس پر قومیں پروان چڑھتی ہیں۔
اب وقت آگیا ہے کہ ہم اجتماعی طور پر اپنے رویوں میں تبدیلی لائیں۔
- اختلافِ رائے کو برداشت کرنا سیکھیں۔
- قانون کی بالادستی کو یقینی بنائیں۔
- بچوں کی تربیت میں اخلاق، صبر اور برداشت کو مرکزی حیثیت دیں۔
- میڈیا اور سیاسی قیادت مثبت گفتگو کو فروغ دیں۔
- تعلیمی اداروں میں کردار سازی کو نصاب کا حصہ بنایا جائے۔
اسلام نے انسان کو امن، بھائی چارے، عدل اور رواداری کا درس دیا ہے۔ قرآن کا پیغام واضح ہے کہ "فتنہ قتل سے بڑھ کر ہے” — یعنی انتشار، نفرت اور بدامنی معاشرے کو تباہ کر دیتی ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ دنیا ہمیں ایک مہذب، ترقی یافتہ اور باوقار قوم کے طور پر پہچانے، تو ہمیں اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں برداشت، صبر اور قانون پسندی کو عملی طور پر اپنانا ہوگا۔
تحمل، برداشت، صبر، افہام و تفہیم اور خودی کسی بھی قوم کی ترقی و استحکام کے بنیادی ستون ہیں۔ ان کے بغیر ترقی کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ قوموں کا عروج محض دولت یا طاقت میں نہیں بلکہ کردار، اخلاق اور انصاف میں پوشیدہ ہے۔ جب قانون سب کے لیے برابر ہوگا، جب صبر اور برداشت ہماری عادت بن جائے گی، تب ہی ہم حقیقی معنوں میں ترقی یافتہ اور مہذب قوم کہلا سکیں گے۔
