محکمہ فوجی اراضی و کنٹونمنٹ نے ایک جامع اصلاحاتی دستاویز مرتب کر کے متعلقہ حکام کو پیش کی ہے جس میں محکمہ کے ساختی اور نظم و نسق میں پائیدار تبدیلی لانے کے لیے مفصل اقدامات درج ہیں۔ اس کا مقصد محکمے کے اندر کارکردگی، شفافیت اور عوامی اعتماد کو مضبوط کرنا بتایا گیا ہے۔اس اصلاحاتی کارروائی کی قیادت ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل عرفان احمد ملک کی ہدایت اور وژن میں کی گئی، جن کے تحت اصلاحات کو ادارہ جاتی انداز میں مستحکم کرنے کی کوشش کی گئی۔ یہ دستاویز سیکرٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل محمد علی کو پیش کی گئی جنہوں نے کام کی تعریف کی اور اسے محکمہ کے مستقبل کے لیے رہنما راستہ قرار دیا۔دستاویز میں گزشتہ دو سال کے دوران محکمے میں ہونے والی پیش رفت اور ساختی اصلاحات کا جامع احاطہ موجود ہے۔ اس میں ڈیجیٹل حکمرانی اور خودکار نظام، مالی شفافیت اور جوابدہی کے فریم ورکس، انسانی وسائل کی ازسرنو تشکیل اور کارکردگی پر مبنی نظام، انفراسٹرکچر کی جدید کاری، پالیسیوں کی یکسانیت اور شہری سہولتوں کے اقدام شامل ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد فوجی اراضی سے متعلق نظم کو جدید، موثر اور عوام دوست بنانا قرار دیا گیا ہے۔اصلاحاتی عمل نے محکمے کے عملی طرزِ عمل میں تبدیلی لانے پر زور دیا ہے۔ ڈیٹا پر مبنی فیصلے، پالیسیوں کا ہم آہنگ ہونا اور فیلڈ سطح پر قابلِ پیمائش جوابدہی نظام متعارف کرائے گئے تاکہ فوجی اراضی کے انتظام میں شفافیت اور برابری کو یقینی بنایا جا سکے۔ ان اقدامات سے سروس ڈیلیوری کے معیار میں بہتری اور شہریوں کے لیے سہولتوں میں واضح اضافہ متوقع ہے۔محکمہ خود اس سفر کو ابھی تک ادھورا سمجھتا ہے اور گذشتہ دو سالوں کو تشخیصی اور اصلاحی مرحلہ قرار دیا گیا ہے۔ ابتدائی مداخلتوں نے مثبت نتائج دکھائے ہیں اور ان سے مضبوط ادارہ جاتی بنیادیں قائم ہوئی ہیں۔ مگر محکمے نے اس بات پر زور دیا ہے کہ تسلسل اور عزم ہی اصلاحات کے ثمرات کو مستقل بنیادوں پر قائم رکھ سکتے ہیں تاکہ فوجی اراضی کے انتظام میں دیرپا بہتری لائی جا سکے۔یہ دستاویز نہ صرف ماضی کی کامیابیوں کا ریکارڈ ہے بلکہ آئندہ پالیسی سازی کے لیے بنیادی رہنما اصول بھی فراہم کرتی ہے، جس کا مقصد عوام دوست، موثر مقامی گورننس اور فوجی اراضی کے بہترین انتظام کو فروغ دینا ہے۔ مستقبل کی منصوبہ بندی میں فوجی اراضی کا مؤثر انتظام اور شہری سہولتیں کلیدی حیثیت رکھیں گی۔
