ملک کے متعدد شہروں میں صارفین انٹرنیٹ رسائی میں رکاوٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تک محدود دسترس کا سامنا کر رہے ہیں۔ فیس بک اور ایکس جیسے بڑے پلیٹ فارم بعض بڑے انٹرنیٹ سروس فراہم کنندگان کے نیٹ ورکس پر صرف وی پی این کے ذریعے ہی قابلِ رسائی بن رہے ہیں اور مجموعی طور پر خدمات میں سست روی کی شکایات موصول ہو رہی ہیں۔مختلف شہروں سے موصولہ اطلاعات میں لاہور سے سب سے زیادہ شکایات سامنے آئی ہیں جب کہ کراچی، اسلام آباد، فیصل آباد اور ملتان کے صارفین نے بھی انٹرنیٹ رسائی سے متعلق مسائل کی اطلاع دی ہے۔ خاص طور پر پی ٹی سی ایل کے صارفین نے واٹس ایپ پیغامات بھیجنے اور وصول کرنے میں دشواری کی شکایات بھی درج کرائیں۔کچھ فراہم کنندگان کے نیٹ ورک پر صارفین نے فیس بک اور ایکس تک محدود رسائی بتائی، جبکہ بعض مقامی فراہم کنندگان کے صارفین نے بلا رکاوٹ سوشل میڈیا استعمال جاری رکھنے کی اطلاع دی ہے۔ مثال کے طور پر نیٹیل کے صارفین نے کسی بڑے مسئلے کی رپورٹ نہیں کی اور بتایا کہ انہیں پلیٹ فارمز تک رسائی برقرار ہے۔ابھی تک پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی یا وزارتِ اطلاعات و ٹیکنالوجی کی جانب سے کوئی باضابطہ وضاحت جاری نہیں ہوئی، تاہم ذرائع کے مطابق اس قسم کے تعطل کا عالمی سطح پر بھی اثر پڑ سکتا ہے کیونکہ پاکستان کے زیادہ تر انٹرنیٹ روٹس زیرِ سمندر کیبل کنکشنز پر منحصر ہیں۔پی ٹی سی ایل گروپ نے صارفین کے نام جاری بیان میں کہا ہے کہ بین الاقوامی کیبل کنسورشیم کی ایک سب میرین کیبل میں نصب رپیٹر کی مرمت کا کام 14 اکتوبر 2025 کو صبح 11 بجے شروع ہوگا اور تقریباً 18 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ پی ٹی سی ایل کے ترجمان نے واضح کیا کہ اس دوران صارفین کو انٹرنیٹ سست روی یا جزوی تعطل کا سامنا ہو سکتا ہے اور کمپنی اس تکلیف کے لیے معذرت خواہ ہے۔صارفین کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں میں اس طرح کی بندشیں متواتر ہوئی ہیں جن کا اثر آن لائن کاروبار، تعلیم اور دیگر ڈیجیٹل رابطوں پر محسوس کیا گیا ہے۔ ماہرین اور صارفین دونوں نے متنبہ کیا ہے کہ مستقل حل کے بغیر ملک کی انٹرنیٹ رسائی غیر مستحکم رہ سکتی ہے، اس لیے متعلقہ اداروں سے بروقت اقدامات اور شفاف اطلاعات کی ضرورت ہے۔
