وزارت ماحولیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی اور ماحولیاتی سفارتکاری کے مرکز کوپ ایئر کے مشترکہ اہتمام میں اسلام آباد کے مرکزی دفتر میں ایک جامع کانفرنس منعقد ہوئی جس میں ملک بھر کے کلیدی شراکت دار اور ماہرین نے شرکت کی۔ یہ اجلاس مخصوص طور پر ملک میں شمولیتی، منصفانہ اور مالیاتی بنیاد پر مضبوط موسمیاتی مزاحمت کے راستوں پر غور کے لیے منعقد کیا گیا تھا۔شرکا نے ماحولیاتی چیلنجز کے حل میں ماحولیاتی سفارتکاری کے کردار، صنفی نقطہ نظر سے حساس مالیاتی حکمت عملیاں اور عوامی و نجی شعبوں کے درمیان اشتراک کو زیرِ بحث لایا۔ کانفرنس میں شریک ماہرین نے کہا کہ ملک کی مزاحمتی ترقی کیلئے مالیاتی وسائل کو ہدف بنا کر ترتیب دینا ضروری ہے تاکہ کمزور طبقات تک سہولیات پہنچ سکیں اور موسمیاتی اصلاحات دیرپا ہوں۔نمائدگان میں نازیہ زین پاکستان کے لیے اقوام متحدہ کے موسمیاتی کنونشن کی رابطہ افسر، حمیرا مفتی سیکرٹری نیشنل کمیشن برائے خواتین، بریگیڈیئر سلیم خان ایس آئی ایف سی کے نمائندے، شاہجہان مرزا چیف ایگزیکٹو پی پی آئی بی، ڈاکٹر فیصل پائی ڈی ای، ڈاکٹر نور فاطمہ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے نمائندہ، حارث خان چیف ایگزیکٹو ہشو فاؤنڈیشن، ڈاکٹر عبیدہ رضا نائب صدر زی ٹی بی ایل اور ڈاکٹر عمر مقصود اقوام متحدہ برائے خوراک و زراعت کے نمائندہ خاص طور پر موجود تھے۔کانفرنس میں نیدرلینڈز سفارت خانے، اقوام متحدہ برائے خواتین، اقوام متحدہ ترقیاتی پروگرام، اقوام متحدہ برائے بچوں کا ادارہ، قومی آفات سے بحالی فورم اور دیگر کلیدی ماحولیاتی و وکالت کرنے والی تنظیموں کے نمائندے بھی شریک ہوئے اور اپنے تجربات و سفارشات پیش کیں۔ شرکا نے بین الااقوامی و علاقائی شراکت داری اور مالیاتی تدابیر کو مضبوط کرنے پر زور دیا۔مقررین نے اس مشترکہ پلیٹ فارم کو پاکستان کے لیے ماحولیاتی سفارتکاری اور صنفی حساس مالیات کو آگے بڑھانے کے عزم کے اظہار کا موقع قرار دیا اور کہا کہ آئندہ عالمی ماحولیات کی سطح پر منعقد ہونے والی کانفرنسیں، خاص طور پر کاپ تیس کو مدنظر رکھتے ہوئے ملک کو مضبوط، شمولیتی اور مالیاتی طور پر قابلِ عمل حکمت عملیاں اپنانی ہوں گی تاکہ مزاحمتی ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔شرکاء نے اختیار کیے گئے رہنما اصولوں اور تبادلۂ خیال کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنے کی ضرورت پر اتفاق کیا اور زور دیا کہ سرکاری و غیر سرکاری تعاون، صنفی نقطۂ نظر سے منصوبہ بندی اور مالی معاونت کے متحرک طریقے ملک کی موسمیاتی مزاحمت کو بڑھائیں گے۔
