راولپنڈی اسلام آباد کے شہریوں کا کیا قصور؟
تحریر: ظہیر احمد اعوان
گزشتہ دو دنوں سے راولپنڈی اور اسلام آباد کے شہری محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔ سڑکیں بند ہیں، کنٹینرز لگے ہوئے ہیں، راستے سیل ہیں، تعلیمی ادارے بند ہیں، کاروبار زندگی معطل ہے۔ یہ منظر کسی جنگی حالت سے کم نہیں لگتا۔ سوال یہ ہے کہ آخر ان بے گناہ شہریوں کا قصور کیا ہے؟ کیا پرامن احتجاج کا مطلب پورا شہر بند کر دینا ہے؟حکومت کی ناقص منصوبہ بندی اور سیاسی قیادت کی ضد کا خمیازہ ہمیشہ عوام کو بھگتنا پڑتا ہے۔ اسلام آباد اور راولپنڈی کے شہری دو دن سے گھروں میں قید ہیں۔ سکول، کالجز اور یونیورسٹیاں بند ہیں، امتحانات ملتوی ہو چکے ہیں، پبلک ٹرانسپورٹ معطل ہے، اور ایمرجنسی سروسز کا نظام تقریباً ختم ہو چکا ہے۔جنگی حالات یا کرفیو میں بھی انسانی ہمدردی کے تقاضے پورے کیے جاتے ہیں۔ ایمبولینس، 1122، فائر بریگیڈ اور صفائی والی گاڑیاں راستے سے نہیں روکی جاتیں۔ اسلامی تعلیمات میں بھی واضح ہدایت ہے کہ جنگ میں بھی بچوں، بوڑھوں، عورتوں، مریضوں، حتیٰ کہ درختوں اور پانی کے ذرائع کا خیال رکھا جائے۔ بین الاقوامی قوانین میں بھی یہی اصول تسلیم شدہ ہیں۔ مگر افسوس کہ ہمارے ہاں امن کے دنوں میں بھی شہریوں کو ان بنیادی حقوق سے محروم کر دیا جاتا ہے۔
موبائل سروس بند، شاہراہیں سیل، ٹرانسپورٹ بند، نتیجتاً مزدور، ریڑھی والے، رکشہ اور ٹیکسی ڈرائیور، دکاندار، طلبہ اور مریض سب بے بس ہیں۔ جو لوگ دن بھر کماتے اور شام کو اپنے بچوں کے لیے روٹی لے کر جاتے ہیں، ان کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ گئے ہیں۔ یہ صورتحال احتجاج نہیں بلکہ انسانی المیے کا منظر پیش کر رہی ہے.احتجاج جمہوری حق ہے مگر اس کا مطلب عوام کو سزا دینا نہیں ہونا چاہیے۔ پرامن احتجاج کا مقصد آواز اٹھانا ہے، دوسروں کے حقوق سلب کرنا نہیں۔ مگر یہاں حکومت راستے بند کر کے عوام کو تکلیف دیتی ہے اور مظاہرین غصے میں آ کر توڑ پھوڑ، شیلنگ اور تشدد کا راستہ اختیار کر لیتے ہیں۔ حکومت کی ناقص منصوبہ بندی اور بدانتظامی سے ہی پرامن احتجاج پرتشدد مظاہروں میں بدل جاتے ہیں۔ جب حکومت کی طرف سے شیلنگ، لاٹھی چارج، گرفتاریاں اور مقدمات کیے جاتے ہیں تو ردعمل میں عوامی غصہ بڑھتا ہے اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچتا ہے، جو کہ دراصل عوام ہی کا نقصان ہے۔یہ وقت ہے کہ حکومت، سیاسی قیادت اور ادارے ہوش کے ناخن لیں۔ کسی بھی صورت حال میں تشدد، لاٹھی یا گولی مسئلے کا حل نہیں۔ حل صرف اور صرف مذاکرات ہیں۔ تمام فریقین کو بیٹھ کر بات کرنی چاہیے کیونکہ یہی جمہوریت کا حسن ہے۔حکومت کی ذمہ داری ہے کہ شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرے۔ آئینِ پاکستان کے مطابق:
آرٹیکل 15 شہریوں کو آزادانہ نقل و حرکت کا حق دیتا ہے۔
آرٹیکل 16 پرامن اجتماع کی اجازت دیتا ہے۔
آرٹیکل 19 آزادیِ اظہارِ رائے کی ضمانت دیتا ہے۔بدقسمتی سے موجودہ حالات میں یہ تینوں حقوق عملاً معطل نظر آتے ہیں۔ لوگ نہ آزادانہ نکل سکتے ہیں، نہ اپنی بات کہہ سکتے ہیں، اور نہ اپنی روزی کما سکتے ہیں۔حکومت کو چاہیے کہ ایسے احتجاجی اعلانات کے وقت ایمرجنسی پلان جاری کرے۔
1۔ متبادل راستوں کی نشاندہی کی جائے۔
2۔ ایمبولینس اور ریسکیو سروسز کے لیے خصوصی کوریڈور بنائے جائیں۔
3۔ تعلیمی اداروں اور والدین کو پیشگی اطلاع دی جائے۔
4۔ مزدور طبقے کے لیے عارضی ریلیف کا بندوبست ہو۔
5۔ سیاسی جماعتوں کو پابند کیا جائے کہ وہ احتجاج کے دوران شہری زندگی مفلوج نہ کریں۔دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں احتجاج منظم طریقے سے ہوتے ہیں۔ برطانیہ میں احتجاج کے لیے مخصوص مقامات مقرر ہیں، جرمنی میں اجازت نامے کے بغیر کوئی ریلی نہیں نکالی جا سکتی، اور کینیڈا میں "ایمرجنسی گرین لائن” کھلی رکھی جاتی ہے تاکہ ایمبولینس اور فائر بریگیڈ متاثر نہ ہوں۔یہی اصول ہمیں بھی اپنانا ہوں گے تاکہ جمہوریت مضبوط ہو، عوام محفوظ رہیں اور احتجاج پرامن انداز میں ہو۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اور سیاسی قیادت یہ سوچیں کہ یہ ملک ہم سب کا ہے۔ یہ وہی عوام ہیں جن کے ووٹوں سے حکومتیں بنتی ہیں، جن کے ٹیکس سے نظام چلتا ہے، اور جن کی زندگی کو بار بار مفلوج کر دینا کسی بھی جمہوری ریاست کو زیب نہیں دیتا۔اگر حکومت عوام کے اعتماد کو کھونا نہیں چاہتی تو اسے فوری طور پر راستے کھولنے، مذاکرات شروع کرنے اور شہریوں کے بنیادی حقوق کی بحالی کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔ پرامن احتجاج ہر شہری کا حق ہے، مگر عام شہریوں کو سزا دینا کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔ سڑکیں بند نہیں، راستے کھولنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہی راستے عوام کی زندگی، روزی اور امید کا سفر ہیں۔
راولپنڈی اور اسلام آباد کی شہری زندگی متاثر
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔
