لاہور میں ایک توجہ مرکوز کانفرنس میں فضائی آلودگی کے مسائل پر بحث جاری رہی جہاں مختلف ادارے اور ماہرین مل کر صفائیِ ہوا کے حل پر بات چیت کر رہے تھے۔ اس نشست میں صاف ہوا کو یقینی بنانے کے لیے فوری اور طویل المدت حکمت عملیاں زیرِ غور آئیں۔خصوصی سیشن میں جس کا موضوع تھا فضائی آلودگی سے نمٹنے کے لیے سبز پنجاب، صوبائی سطح کے وہ رہنما موجود تھے جو پنجاب کی صفائی ہوا کی مہم چلا رہے ہیں اور اس مقصد کے لیے عملی اقدامات پر زور دیتے آئے ہیں۔ سیشن میں ماحولیاتی مینجمنٹ اور عوامی شرکت کی ضرورت پر بار بار زور دیا گیا۔سلوات سعید بطور سیکرٹری محکمہ تحفظ ماحولیات و ماحولیاتی تبدیلی پنجاب نے جدید تکنیکی منصوبوں کا تفصیلی خاکہ پیش کیا۔ انہوں نے فضائی معیار کے اشاریے کی پیشن گوئی کے نظام کی افادیت، مصنوعی ذہانت پر مبنی فضائی معیار کا چیٹ بوٹ اور شہری بیداری اور تعاملی رابطے کی مہمات کی اہمیت واضح کی۔ سیکرٹری نے کہا کہ یہ اقدامات نہ صرف روز مرہ کے آلودگی کے واقعات کا قبل از وقت پتا دیں گے بلکہ عوامی شعور بڑھانے میں بھی مددگار ثابت ہوں گے۔ڈاکٹر عمران حمید شیخ بطور ڈائریکٹر جنرل ماحولیاتی تحفظ ایجنسی پنجاب نے زمین پر نفاذی کارروائیوں کی تفصیل بتائی۔ انہوں نے کہا کہ فیلڈ ایکشن، صنعتوں اور ٹرانسپورٹ سیکٹر کی نگرانی، اور اخراج کم کرنے کے لیے موثر نفاذی رہنما اصول اپنائے جا رہے ہیں تاکہ صاف ہوا کے معیار میں مستقل بہتری لائی جا سکے۔طارق حسین بطور پراجیکٹ ڈائریکٹر حکمتِ عملی منصوبہ بندی و نفاذ یونٹ پنجاب کلین ایئر پروگرام نے منصوبہ جاتی اقدامات اور تعاون کے طریقہ کار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ سرکاری ادارے، مقامی حکومتیں اور عوامی شمولیت سے مل کر ایسی پالیسیاں نافذ کی جا رہی ہیں جو شہری سطح پر صاف ہوا کے تقاضوں کو پورا کریں گی۔ممبرانِ پینل نے اس بات پر اتفاق کیا کہ صاف ہوا کے حصول کے لیے ٹیکنالوجی، سخت نفاذ اور شہری بیداری تینوں لازم و ملزوم ہیں۔ اس وژن کا محور ایک ایسا پنجاب تھا جو سبز، صحت مند اور موسمیاتی چیلنجوں کے سامنے مضبوط ہو۔ شرکاء نے کہا کہ آئندہ اقدامات میں پیشگوئی والے نظام، مصنوعی ذہانت پر مبنی سہولیات اور عوامی مہمات کے ذریعے موثر رابطہ کاری کو مرکزی حیثیت دی جائے گی تاکہ عام آدمی تک صاف ہوا کا فائدہ پہنچے اور طویل المدت نتائج حاصل ہوں۔
