احتجاج! راستے بند، طلبہ و طالبات خوار، تعلیم و امتحانات متاثر

newsdesk
7 Min Read
احتجاجی بندشوں کے باعث سڑکیں بند، تعلیمی ادارے متاثر اور ہنگامی خدمات معطل۔ منظم قوانین اور ہنگامی راستوں کی فوری ضرورت ہے

احتجاج! راستے بند، طلبہ و طالبات خوار، تعلیم و امتحانات متاثر
تحریر: ظہیر احمد اعوان
اس جدید دور میں جب دنیا سمٹ کر ایک گاؤں بن چکی ہے اور خبر لمحوں میں پوری دنیا میں پھیل جاتی ہے، ترقی یافتہ ممالک میں احتجاج پرامن، منظم اور وقت مقررہ پر شروع اور ختم ہوتے ہیں۔ لیکن ہمارے ہاں احتجاج ایک عذاب بن چکے ہیں۔ ہر مظاہرہ عوام کے لیے اذیت، خوف اور نقصان کا سبب بن جاتا ہے۔احتجاج کی تاریخ سے پہلے ہی حکومت حفاظتی اقدامات کے نام پر بڑے پیمانے پر انتظامات شروع کر دیتی ہے۔ سیاسی رہنماؤں، کارکنوں کے گھروں اور دفاتر پر چھاپے مارے جاتے ہیں، گرفتاریاں کی جاتی ہیں، اور سب سے بڑھ کر مرکزی شاہراہوں کو کنٹینرز لگا کر بند کر دیا جاتا ہے۔ راولپنڈی اور اسلام آباد کی مرکزی سڑکیں کنٹینرز سے بھری ہوتی ہیں۔ موبائل اور انٹرنیٹ سروس بند کر دی جاتی ہے، جس کے بعد اسکول، کالجز اور یونیورسٹیاں والدین یا طلبہ کو کوئی اطلاع نہیں دے پاتیں۔
اکثر امتحانات جاری ہوتے ہیں مگر حکومت کوئی اعلان نہیں کرتی۔ بچے صبح اسکول پہنچ جاتے ہیں اور واپسی پر سڑکوں کی بندش میں پھنس جاتے ہیں۔ سب سے زیادہ متاثر طلبہ و طالبات، اساتذہ، سرکاری و نجی ملازمین ہوتے ہیں۔
پبلک سروس گاڑیوں کی بندش سے میٹرو بسیں، اندرون و بیرون شہر کی سروسز، پرائیویٹ ویگن، بس سروس، رکشے اور ٹیکسیاں سب بند ہو جاتی ہیں۔ عملاً کاروبارِ زندگی معطل ہو جاتا ہے، جس سے اربوں روپے کا نقصان ہوتا ہے۔
ایمرجنسی کی صورت میں ایمبولینس، 1122 ریسکیو، فائر بریگیڈ اور صفائی کی گاڑیاں بھی بندش کا شکار ہو جاتی ہیں۔ مریض اسپتال نہ پہنچ سکنے کے باعث دم توڑ دیتے ہیں۔ آگ بجھانے والی گاڑیاں موقع پر نہیں پہنچ پاتیں۔ صفائی کی گاڑیاں نہ نکل سکنے سے گلی محلوں میں کوڑے کے انبار لگ جاتے ہیں۔ مارکیٹیں، فروٹ و سبزی منڈیاں، پانی کے ٹینکر، گیس و بجلی کی سروس سب رک جاتی ہے۔ یہ صورتحال کسی قدرتی آفت سے کم نہیں۔ آئینی حق اور ذمہ داری
آئینِ پاکستان کے مطابق ہر شہری کو پرامن احتجاج اور اظہارِ رائے کی آزادی حاصل ہے۔

  • آرٹیکل 16 شہریوں کو پرامن طور پر اجتماع کی اجازت دیتا ہے۔
  • آرٹیکل 17 انجمن سازی اور سیاسی جماعت بنانے کا حق دیتا ہے۔
  • آرٹیکل 19 آزادیِ اظہارِ رائے کی ضمانت دیتا ہے۔
    یہ حقوق عوام کو ملے ہوئے ہیں، مگر شرط یہ ہے کہ احتجاج پرامن رہے اور دوسروں کے حقوق متاثر نہ ہوں۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں حکومتیں ان ہی حقوق کو سلب کرنے کے لیے اکثر دفعہ 144 اور ایم پی او 16 نافذ کر دیتی ہیں، جس کے نتیجے میں گرفتاریاں، نظر بندیاں اور شہر بند ہو جاتے ہیں۔
    تعلیم پر اثرات طلبہ و طالبات سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ امتحانات ملتوی، کلاسیں منسوخ، یونیورسٹیوں میں حاضری متاثر اور والدین شدید پریشانی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ تعلیم کا نظام بار بار ٹھپ ہو جانا ملک کے مستقبل سے کھیلنے کے مترادف ہے۔
    دنیا کے ترقی یافتہ ممالک سے سبق
    دنیا کے کئی ممالک نے احتجاج کو پرامن رکھنے کے مؤثر طریقے وضع کیے ہیں۔
  • برطانیہ میں احتجاج کے لیے مخصوص مقامات متعین ہیں اور پولیس و مظاہرین کے درمیان پہلے سے رابطہ رہتا ہے۔
  • فرانس میں احتجاج سے قبل روٹس اور اوقات طے کیے جاتے ہیں۔
  • جرمنی میں اجازت نامے کے بغیر احتجاج ممکن نہیں، تاکہ ٹریفک اور عوام متاثر نہ ہوں۔
  • کینیڈا اور ناروے میں دورانِ احتجاج “ایمرجنسی گرین لائن” کھلی رکھی جاتی ہے تاکہ ایمبولینس اور ریسکیو سروس متاثر نہ ہو۔
    یہ سب بتاتے ہیں کہ اگر نیت ہو تو احتجاج اور عوامی سہولت ساتھ ساتھ چل سکتے ہیں۔
    اصلاحی تجاویز
  1. حکومت کو چاہیے کہ سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر احتجاج کے لیے واضح قوانین بنائے۔
  2. ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو لازمی اطلاع کا نظام بنانا چاہیے تاکہ والدین اور طلبہ پیشگی آگاہ ہوں۔
  3. ایمرجنسی لین ہر صورت کھلی رکھی جائے۔
  4. میڈیا کو عوام کو متبادل راستے اور صورتحال سے آگاہ رکھنا چاہیے۔
  5. سیاسی قیادت کو سمجھنا ہوگا کہ شہریوں کو تنگ کر کے عوامی حمایت حاصل نہیں کی جا سکتی۔
    حکومت اور سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری حکومت کی ناقص منصوبہ بندی اور حکمتِ عملی کے باعث اکثر پرامن احتجاج پرتشدد مظاہروں میں بدل جاتے ہیں۔ جب مظاہرین پر شیل برسائے جاتے ہیں، لاٹھی چارج، گرفتاریاں اور تشدد کیا جاتا ہے تو ردعمل میں توڑ پھوڑ اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچتا ہے، جو دراصل عوام کا اپنا نقصان ہوتا ہے۔ لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ تحمل اور نرمی سے بہترین حکمتِ عملی اختیار کرے، سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے اور ایسا ماحول بنائے جس میں کسی کو نقصان نہ پہنچے اور پرامن احتجاج واقعی پرامن رہے۔
    سیاسی جماعتوں کو بھی اپنے کارکنان کی تربیت کرنی چاہیے تاکہ وہ نظم و ضبط کے ساتھ اپنا احتجاج ریکارڈ کروائیں۔ یہ ملک ہمارا ہے، ہمیں اس کی فلاح و بہبود کے لیے سوچنا چاہیے۔احتجاج ایک جمہوری حق ہے، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ پورا شہر مفلوج کر دیا جائے۔ حکومت، عدلیہ، سیکیورٹی ادارے اور سیاسی جماعتیں مل کر ایسا نظام بنائیں جس سے عوام کا حقِ احتجاج بھی محفوظ رہے اور عام شہریوں کی زندگی بھی متاثر نہ ہو۔
    پرامن احتجاج ہی حقیقی جمہوریت کی علامت ہے۔ راستے بند کر کے نہیں، راستے کھول کر جمہوریت مضبوط ہوتی ہے۔
Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے