نو رکنی ترک وفد نے اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس اور گلی دستور کا تفصیلی دورہ کیا جہاں سینیٹ سیکرٹریٹ کے اعلیٰ حکام نے انہیں خوش آمدید کہا اور پاکستان کے پارلیمانی نظام کے بارے میں جامع بریفنگ دی۔ بریفنگ میں قانون سازی کے عمل، ایوانِ بالا کے سامنے آنے والے چیلنجز اور پارلیمانی کردار کی نوعیت پر روشنی ڈالی گئی۔وفد کو سینیٹ میوزیم میں لے جایا گیا جہاں پاکستان کی جمہوری تاریخ اور پارلیمانی روایات سے متعلق نمائشی مواد دکھایا گیا۔ میوزیم میں رکھی گئی تصاویر، تاریخی دستاویزات اور یادگاروں نے ترک مہمانوں کی توجہ حاصل کی اور انہوں نے پاکستان کے آئینی سفر میں سینیٹ کے کردار کو دلچسپی سے دیکھا۔پارلیمنٹ ہاؤس میں جاری اجلاس کی کارروائی کا مشاہدہ بھی وفد نے کیا جس سے انہیں عملی پارلیمانی عمل اور ایوانی بحث و مباحثے کے طریقہ کار کا براہِ راست ادراک ہوا۔ ملاقاتوں کے دوران ترک وفد نے پارلیمانی تعاون اور دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کی مزید مضبوطی پر زور دیا۔اس موقع پر وفد کی سینیٹر نورالحق قادری سے ملاقات ہوئی جس میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور پارلیمانی رابطوں کو فروغ دینے کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ سینیٹر قادری نے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے تعلقات مذہبی، ثقافتی اور تاریخی بنیادوں پر مضبوط ہیں اور دونوں فریق عالمی اور علاقائی فورمز پر ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔بعد ازاں وفد نے گلی دستور اسلام آباد کا دورہ کیا جہاں انہیں آئینی و جمہوری ارتقاء، پارلیمان کے تاریخی کردار اور آئینِ پاکستان کی تشکیل کے مراحل کے بارے میں مفصل طور پر آگاہ کیا گیا۔ گلی دستور میں نمائش کی گئی تاریخی تصاویر اور دستاویزات نے مہمانوں میں اظہارِ دلچسپی پیدا کیا اور انہوں نے پاکستان کی پارلیمانی تاریخ کو سراہا۔دورے کے اختتام پر ترک وفد نے سینیٹ سیکرٹریٹ کی مہمان نوازی، معلوماتی بریفنگ اور گلی دستور کے دورے پر شکریہ ادا کیا اور پاکستان کی جمہوری روایات کی اہمیت اور پارلیمانی تاریخ کی قدردانی کا اعادہ کیا۔
