ادارہ اقوامِ متحدہ برائے خواتین نے یورپی یونین کی مالی معاونت سے چلنے والے ڈیلِور جسٹس منصوبے کے تحت لاسبیلا کے سرکٹ ہاؤس میں ایک ابتدائی تربیتی نشست کا انعقاد کیا جس کا محور لازمی خدمات کے پیکیج، صنف اور متعلقہ اصطلاحات پر بنیادی آگاہی فراہم کرنا تھا۔ اس کارروائی کا مقصد مقامی پولیس فورس کو متاثرین کو بہتر خدمات دینے اور صنفی بنیاد پر تشدد کے خلاف مؤثر ردِعمل کے قابل بنانا تھا۔اس نشست میں کل ۴۵ پولیس اہلکار شریک تھے جن میں ۲۷ خواتین اور ۲۰ مرد شامل تھے۔ شرکاء میں مختلف درجوں کے اہلکار شامل تھے جن میں سب انسپکٹر، اسسٹنٹ سب انسپکٹر، انسپکٹر اور کانسٹیبل شامل تھے، جنہیں روزمرہ کے آپریشنز میں متاثرہ افراد کے ساتھ مؤثر مواصلت اور حساس رویہ اپنانے کی ہدایت دی گئی۔یہ نشست ضلعی پولیس افسر عاطف امیّد کی سربراہی میں منعقد ہوئی جنہوں نے شرکاء کو رہنمائی فراہم کی اور تربیتی مواد کی عملی تطبیق پر زور دیا۔ شرکاء نے ماحول دوست شکایات کے ریکارڈ، متاثرین کی رازداری اور حفاظتی تقاضوں کے بارے میں عملی نکات بھی سیکھے تاکہ عدالتوں اور سماجی خدمات تک پہنچ میں بہتری آئے۔تربیتی سیشن میں صنفی تصورات، خواتین کے حقوق کے موافق قوانین، بین الاقوامی فریم ورک اور بین الاقوامی کنونشن برائے خواتین کے حقوق جیسے موضوعات پر گفتگو ہوئی۔ شرکاء کو جنسی زیادتی کے خلاف قانون ۲۰۲۱ اور متاثرین کی سہولت کاری کے تقاضوں سے بھی روشناس کرایا گیا تاکہ پولیس افسران متاثرہ افراد کو طبی، قانونی اور حفاظتی معاونت بروقت فراہم کر سکیں۔اس تربیت کا مقصد صنفی حساس پولیسنگ کے اصولوں کو روزمرہ پولیسنگ میں شامل کرنا تھا اور شرکاء کی سمجھ بوجھ میں واضح اضافہ دیکھا گیا۔ تربیت سے پولیس اہلکار نہ صرف متاثرین کی بہتر معاونت کے لیے تیار ہوئے بلکہ بلوچستان میں صنفی بنیاد پر تشدد کی روک تھام اور بروقت جوابی کارروائی کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے بھی عملی اقدامات کرنے کے قابل بنے۔یہ اقدام علاقے میں خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد کے تدارک اور متاثرین کے حقوق کے تحفظ کی سمت ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے اور مقامی پولیس فورس کی تربیت سے طویل مدتی سطح پر خدمات اور انصاف تک رسائی بہتر ہونے کی توقع ہے۔
