پانچ روزہ قومی بی ایس مڈوائفری فیکلٹی تربیتی سیمولیشن ورکشاپ نے مڈوائفری تعلیم کے شعبے میں فیکلٹی کی پیشہ ورانہ مہارتوں کو تقویت دی۔ اس ورکشاپ میں تربیت یافتہ اساتذہ نے سیمولیشن کے ذریعے طبی عملی مشقیں اور کلاس روم حکمتِ عملیوں پر کام کیا تاکہ مستقبل کی مڈوائفری نسل بہتر طریقے سے تیار ہو سکے۔ مڈوائفری تعلیم کے معیار کو بلند کرنے کے لیے یہ قدم خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ اس سے فیکلٹی کی تدریسی صلاحیتوں میں براہِ راست بہتری آتی ہے۔اس مہم میں آسٹریلیا کے برنیٹ انسٹی ٹیوٹ کی فنی معاونت اور اقوامِ متحدہ کا ادارہ برائے آبادی پاکستان کی معاونت شامل رہی، جس نے تکنیکی اور تنظیمی وسائل فراہم کیے۔ اس معاونت نے سیمولیشن مبنی تربیتی ماڈیولز اور عملی سیشنز کو کامیابی سے چلانے میں مدد دی، جس کے نتیجے میں شرکاء نے جدید تربیتی طریقوں کو اپنانا شروع کیا۔ورکشاپ نے وزارتِ قومی صحت برائے ضابطہ و ہم آہنگی، ادارہ برائے خدماتِ صحت اور دیگر شراکت داروں کے درمیان عہدِ مشترک کو مضبوط کیا۔ شراکت داروں کی یہ سوچ تھی کہ مڈوائفری تعلیم میں بہتری براہِ راست طبی عمل اور مریضوں کو ملنے والی سہولتوں میں جھلکتی ہے، اس لیے فیکلٹی کی ترقی پر توجہ انتہائی ضروری ہے۔مڈوائفری تعلیم میں یہ پیش رفت خاص طور پر اس لیے قابلِ توجہ ہے کہ بہتر تدریس اور عملی تربیت کے ذریعے ہر حاملہ اور نوزائیدہ کو معیاری نگہداشت فراہم کرنے کی کوشش کو تقویت ملتی ہے۔ فیکلٹی کے ذریعے منتقل کی جانے والی مہارتیں دور رس اثر رکھتی ہیں اور آئندہ مادر اور نوزائیدہ کی حفاظت میں نمایاں اضافہ ممکن بناتی ہیں۔
