حنا پرویز بٹ نے قتل شدہ خاتون کے اہل خانہ سے ملاقات کی

newsdesk
3 Min Read
گجرات کنجاہ میں مبینہ طور پر قتل ہونے والی رشیدہ کے معاملے میں حنا پرویز بٹ نے اہل خانہ سے ملاقات کر کے انصاف اور معاونت کی یقین دہانی کرائی

گجرات کے کنجاہ علاقے میں ایک سنگین واقعے میں مبینہ طور پر رشیدہ کو زہریلا مشروب پلایا گیا، تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور انہیں تیزاب پینے پر مجبور کرنے کے الزامات سامنے آئے۔ پولیس کے مطابق متاثرہ خاتون کو ننگا کر کے ویڈیو بھی بنائی گئی اور ہسپتال پہنچانے میں تاخیر کی گئی، جس کے بعد وہ ہسپتال میں انتقال کر گئیں۔متاثرہ خاتون نے ہسپتال میں اپنے بھائی اور پولیس کے سامنے ایک ویڈیو بیان میں سسرال کے افراد کے نام لیے اور اپنی تکالیف سے آگاہ کیا۔ اس واقعے کے بعد مقدمہ درج کیا گیا تاہم نامزد تمام ملزمان نے عبوری ضمانت حاصل کر لی ہے اور کیس عدالت میں زیر سماعت ہے۔ یہ واقعہ مقامی سطح پر شدید غم و غصہ اور فوری گرفتاریاں مانگنے کے مطالبات کا باعث بنا۔پنجاب خواتین تحفظ اتھارٹی کی سربراہ حنا پرویز بٹ نے صوبائی سربراہ مملکت کی ہدایت پر فوری طور پر گجرات پہنچ کر متاثرہ خاندان سے ملاقات کی، والدین اور بہن بھائیوں سے تعزیت کا اظہار کیا اور صوبائی حکومت کی طرف سے قانونی اور نفسیاتی معاونت کی مکمل یقین دہانی کرائی۔ حنا پرویز بٹ نے کہا کہ خاتون پر تشدد اور تیزاب پینے پر مجبور کرنے کا یہ واقعہ ناقابل معافی ہے اور ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔انہوں نے متعلقہ پولیس کو ملزمان کے خلاف تفتیش تیز کرنے، تمام نامزد افراد کا جھوٹ کی جانچ کا ٹیسٹ کرانے اور معاملے کی فوری نگرانی کرنے کی ہدایات دیں۔ حنا پرویز بٹ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کوئی بھی شخصیت خواتین کو نقصان پہنچانے والوں کو بخشا نہیں جائے گا اور پنجاب کو خواتین کے لیے محفوظ صوبہ بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔گجرات کے تحقیقاتی افسر نے بتایا کہ پولیس ہر ممکن وسائل بروئے کار لا رہی ہے اور متاثرہ خاندان کو قانونی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ افسر نے کہا کہ اس قسم کے جرائم کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور مجرمان کو قانون کے تحت سخت سے سخت سزا دی جائے گی۔مقامی رہنماؤں اور شہریوں نے واقعے پر سخت ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے فوری گرفتاریوں اور عوامی انداز میں مقدمے کے نفاذ کا مطالبہ کیا۔ پولیس نے کہا کہ کیس کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے سخت نگرانی جاری ہے اور صنفی بنیادوں پر ہونے والے جرائم کے خلاف صفر رواداری پالیسی کے تحت کارروائیاں کی جائیں گی۔ خاتون پر تشدد کے اس واقعے نے علاقے میں تحفظِ خواتین کے امور کو دوبارہ زیر بحث لا دیا ہے اور متعلقہ اداروں سے تیز رفتار قانونی کارروائی کی توقع کی جا رہی ہے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے