📰 فلسطین: انسانیت کی جیل، عالمی حکمرانوں کا بدنما چہرہ
(تحریر: ظہیر احمد اعوان)
📌 انٹرو باکس
"فلسطین صرف ایک خطہ زمین نہیں بلکہ انسانیت کے اجتماعی ضمیر کا امتحان ہے۔ معصوم بچوں اور عورتوں پر بمباری اور گھروں کی تباہی نے اسے دنیا کی سب سے بڑی جیل میں بدل دیا ہے۔ لیکن افسوس، عالمی طاقتیں اور مسلم حکمران محض تماشائی نہیں بلکہ کئی صورتوں میں ظالم کے سہولت کار بنے ہوئے ہیں۔”
ظلم اور جبر کا منظرنامہ
فلسطین کی سرزمین دہائیوں سے قبضے، بربریت اور نسل کشی کی تصویر بنی ہوئی ہے۔ لاکھوں لوگ محصور، بنیادی سہولتوں سے محروم، بچے اور عورتیں خون میں نہائے ہوئے اور گھر بار ملبے میں بدل چکے ہیں۔ یہ سب کچھ عالمی طاقتوں کی آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہے اور وہ مجرمانہ خاموشی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
💬 اقتباس:
"دنیا کے حکمران مظلوم کے بجائے ظالم کے ساتھ کھڑے ہیں اور شرمناک معاہدوں پر عملدرآمد کے لیے سرگرم ہیں۔”
ناجائز قبضہ اور ابراہام اکارڈز
اسرائیل نے ایک طرف فلسطین پر ناجائز قبضہ جما رکھا ہے، اور دوسری طرف ابراہام اکارڈز اور "دو ریاستی حل” جیسے منصوبوں کے ذریعے اپنی جارحیت کو قانونی جواز دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ابراہام اکارڈز (2020–2021) کے تحت امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان نے اسرائیل سے تعلقات قائم کیے۔ ان معاہدوں کو امن کا راستہ کہا گیا، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ فلسطین کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہیں۔
💬 اقتباس:
"دو ریاستی حل محض ایک خوشنما نعرہ ہے جس کا مقصد فلسطین کو مزید ٹکڑوں میں بانٹنا ہے، نہ کہ مسئلے کا حقیقی حل۔”
معصوموں پر بمباری — تاریخ کا بدنما باب
بچوں اور عورتوں کو نشانہ بنانا کس تہذیب کا حصہ ہے؟ اسرائیلی بمباری نے ہزاروں بچوں کو موت کے گھاٹ اتارا، لاکھوں کو ذہنی مریض بنا دیا۔ فلسطین دنیا بھر میں یتیموں، بیواؤں اور بے گھر ہونے والوں کی سب سے بڑی فہرست رکھتا ہے۔ یہ ایک ایسا المیہ ہے جسے تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی۔
اقوام متحدہ، او آئی سی اور عالمی انسانی حقوق تنظیمیں
- اقوام متحدہ: متعدد قراردادوں میں فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کو تسلیم کیا گیا مگر عملدرآمد صفر ہے۔
- او آئی سی: بیانات اور اجلاس تو ہوئے لیکن عملی اقدامات کی کمی کھل کر سامنے آئی۔
- ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ: اسرائیلی نسلی امتیاز اور جنگی جرائم پر واضح رپورٹس شائع کیں، مگر عالمی طاقتوں نے نظر انداز کر دیا۔
پاکستان کا تاریخی مؤقف
قائداعظم محمد علی جناحؒ نے اسرائیل کو امت مسلمہ کے دل میں گھونپا گیا خنجر قرار دیا تھا۔ پاکستان کے عوام آج بھی اسی اصولی مؤقف پر ڈٹے ہوئے ہیں اور اپنے فلسطینی بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔
وقت کا تقاضا
یہ وقت صرف قراردادوں یا بیانات کا نہیں بلکہ عملی اقدامات کا ہے۔ اگر مسلم حکمران خوابِ غفلت سے نہ جاگے تو تاریخ انہیں معاف نہیں کرے گی۔
💬 اقتباس (اہم جملہ):
"فلسطین کا مسئلہ انسانیت کا مسئلہ ہے۔ آج کا سوال یہی ہے: کیا ہم ظالم کے ساتھ ہیں یا مظلوم کے ساتھ؟”
📚 ماخذات و حوالہ جات
- اقوامِ متحدہ: قرارداد A/RES/ES-10/27 (2025)، قرارداد 2334 (2016)، رپورٹ برائے غزہ 2025۔
- او آئی سی: قرارداد OIC/EXCFM-20/2025/Res.Fina۔
- ایمنسٹی انٹرنیشنل: "Israel’s Apartheid Against Palestinians” (2022)؛ "You Feel Like You Are Subhuman” (2024)۔
- ہیومن رائٹس واچ: "A Threshold Crossed” (2021)۔
- ابراہام معاہدے (2020–2021): امریکا، امارات، بحرین، مراکش، سوڈان — اسرائیل تعلقات۔
