اسلام آباد، ۲۹ ستمبر ۲۰۲۵ کو ازبکستان کے اعلیٰ پارلیمانی وفد نے قومی اسمبلی میں دورہ کیا جس کی قیادت اولی مجلِس کے قانون ساز ایوان کے اسپیکر جناب نورالدین اسماعیلوف کر رہے تھے۔ قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق نے وفد کو خوش آمدید کہا اور دونوں ملکوں کے تاریخی اور برادرانہ تعلقات کی اہمیت کا اعادہ کیا۔اس موقع پر اسپیکر نے کہا کہ پارلیمانی ڈپلومیسی امن، علاقائی استحکام اور ترقی کے فروغ میں مرکزی کردار ادا کرتی ہے۔ پاکستان ازبکستان تعلقات کو مضبوط کرنے کے لیے پارلیمانی رابطوں اور اس نوعیت کے فورمز کی افادیت پر زور دیا گیا اور پاکستان نے ازبکستان کو اپنے سمندری راستوں سے، خصوصاً گوادر اور کراچی کی بندرگاہوں سے استفادے کی دعوت دی۔اسپیکر نے انٹر پارلیمنٹری یونین کانفرنس کی ازبکستان میں کامیاب میزبانی کو سراہا اور پارلیمانی اسمبلی برائے اقتصادی تعاون کو زیادہ فعال بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ دونوں طرف نے تجارت، توانائی، انفراسٹرکچر اور کنیکٹوٹی کے میدان میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔ پاکستان ازبکستان تعلقات کو اقتصادی راہداریوں اور تجارتی ارتباط کے ذریعے نئی جہت دینے پر زور دیا گیا۔موسمیاتی تبدیلی کے موضوع پر اسپیکر نے کہا کہ پاکستان جس نے کم کاربن کا کردار ادا کیا ہے وہ شدید موسمیاتی چیلنجز کا شکار رہا ہے اور نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی حالیہ کارکردگی کو سراہتے ہوئے علاقائی اشتراکِ عمل کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ اسپیکر نے بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور غزہ میں اسرائیلی جارحیت کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ کشمیری اور فلسطینی مسائل کے منصفانہ حل کے بغیر پائیدار امن ممکن نہیں۔پاکستانی موقف کے مطابق حالیہ بھارتی حملوں کے بعد خطے میں عارضی کشیدگی اس کے فوری بعد ختم ہوئی جب بھارت نے جنگ بندی کی درخواست کی۔ اسپیکر نے قوم کی یکجہتی اور مسلح افواج کی قربانیوں کو دفاعی اور سفارتی کامیابی کی بنیاد قرار دیا۔ پاکستان ازبکستان تعلقات کے دائرے میں دونوں ملک ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، خاص طور پر دہشت گردی کے خلاف اقدامات میں اشتراکِ علم اور حکمتِ عملیاں اہم قرار پائیں۔وفد کی قیادت کرنے والے اسپیکر اسماعیلوف نے پاکستان کی مہمان نوازی پر گہری تشکر کا اظہار کیا اور اسپیکر سردار ایاز صادق کی قیادت کو پارلیمانی ڈپلومیسی کے فروغ میں مثالی قرار دیا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے مشترکہ خطے میں تجارتی راہداریوں، توانائی تعاون اور کنیکٹوٹی کی اہمیت پر زور دیا اور موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنانے کی تجویز پیش کی۔ازبک اسپیکر نے دہشت گردی کے خلاف پاکستانی تجربات کو قابلِ قدر بتایا اور کہا کہ حالیہ دوروں، جن میں وزیراعظم محمد شہباز شریف کا ازبکستان کا حالیہ دورہ بھی شامل ہے، دونوں طرف تعلقات کو نئی رفتار دے چکے ہیں۔ انہوں نے دونوں پارلیمانوں کے درمیان بڑھتے ہوئے رابطوں کو عوام کے مابین رشتوں کو مضبوط کرنے کا ذریعہ قرار دیا۔ازبک وفد نے پارلیمنٹ ہاؤس کے داخلی راستوں کا دورہ کیا، مہمانانِ خصوصی کی کتابِ حاضرین میں تحریریں درج کیں اور یادگاری تحائف کا تبادلہ کیا۔ اس موقع پر پاکستان ازبکستان تعلقات کو آئندہ مزید باہمی تعاون اور پارلیمانی روابط کے ذریعے فروغ دینے پر اتفاق رائے پایا گیا۔
