شفا انٹرنیشنل ہسپتال نے عالمی یومِ پھیپھڑوں کے موقع پر "صحت مند پھیپھڑے، صحت مند زندگی” کے مقصد کے تحت ایک خصوصی بیداری سیشن کا انعقاد کیا جس میں ماہرینِ پھیپھڑوں، طبی عملہ اور مریض شریک ہوئے۔ سیشن کا مقصد پھیپھڑوں کے متعلقہ امراض کے جدید انتظام، تشخیص اور مریضوں کی بہتر نگہداشت پر توجہ مرکوز کرنا تھا تاکہ عوام میں پھیپھڑوں کی صحت کے حوالے سے آگاہی بڑھے۔ڈاکٹر مرتضیٰ کاظمی نے اس سیشن کی قیادت کی، جو سرگرمی کے نگران، ماہرِ پھیپھڑوں اور پھیپھڑوں کے شعبے کے سربراہ کے طور پر حاضر تھے۔ ماہرین نے مریضوں کے ساتھ گفتگو کی اور طبی نقطۂ نظر سے عملی رہنمائی فراہم کی تاکہ پھیپھڑوں کی صحت بہتر بنانے کے اقدامات عملی طور پر نافذ کئے جا سکیں۔تقریری نشستوں میں دمہ اور دائمی رکاوٹ پھیپھڑوں کی بیماری کے جدید انتظامات پر بات ہوئی، ساتھ ہی پلورل میں غیر معمولی مائع کے جمع ہونے کی درست تشخیص کے عملی طریقے بیان کئے گئے۔ پھیپھڑوں کی شریانوں میں خون کے لوتھڑوں کی درجہ بندی اور علاج کے حوالے سے تازہ ترین خطرے کی پیمائش اور علاجی حکمتِ عملیاں زیرِ بحث آئیں جبکہ کمزور مدافعتی نظام والے مریضوں میں تپ دق کے منفرد چیلنجز پر بھی روشنی ڈالی گئی۔مریضوں نے اپنے تجربات کا تذکرہ کرتے ہوئے بروقت تشخیص، علاج کی آسان دستیابی اور مسلسل طبی حمایت کی اہمیت پر زور دیا، جو پھیپھڑوں کی صحت کی بہتری کے لئے لازمی عناصر سمجھے گئے۔ مریضوں کی کہانیاں طبی نقطۂ نظر کے ساتھ مل کر اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ سماجی اور طبی حمایت دونوں کا امتزاج مریضوں کے معیارِ زندگی کو بہتر بنا سکتا ہے۔تسکینی علاج پر ہونے والی پینل بحث میں شفاکی طبی ٹیم کے معالجین کے علاوہ بیرونِ ادارہ مدعو مہمان ڈاکٹر نغمان بشیر، چھاتی و پھیپھڑوں کے امراض کے ماہر اور پاکستان چیسٹ سوسائٹی کے سینئر رکن نے شرکت کی۔ بحث میں اس بات پر زور دیا گیا کہ پھیپھڑوں کے طویل المعیاد مریضوں کے لئے علاج کے ساتھ ساتھ معیارِ حیات کو ترجیح دینا ضروری ہے تاکہ مریض اور اہلِ خانہ دونوں کو مکمل سپورٹ فراہم کی جا سکے۔شفا کے پھیپھڑوں کے شعبے میں جدید سہولتیں دستیاب ہیں جن میں ایک مکمل پلورل کلینک اور جدید اینڈوبرانکیئل الٹراساؤنڈ جیسی تکنیکی سہولیات شامل ہیں جو کم جراحی طریقوں سے انفیکشنز سے لے کر کینسر تک کی درست تشخیص ممکن بناتی ہیں۔ یہ خدمات مقامی مریضوں کے لئے بہتر تشخیصی اور علاجی راستے مہیا کرتی ہیں تاکہ پھیپھڑوں کی صحت میں نمایاں بہتری لائی جا سکے۔ہسپتال کے بقول اس قسم کے بیداری پروگرامز پھیپھڑوں کی صحت کے حوالے سے عوامی شعور بڑھانے اور بروقت طبی مداخلت کو یقینی بنانے میں مؤثر ثابت ہوتے ہیں، اور مستقبل میں اسی جذبے کے ساتھ مزید عوامی تربیتی سرگرمیاں جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا گیا۔
