<>سید مصطفیٰ کمال> نے عوامی سطح پر اپنی بیٹی کو ہیومن پیپیلومہ ویکسین لگوا کر ویکسین کے سیکیورٹی اور افادیت کے بارے میں پھیلی تشویش کو ختم کرنے کی کوشش کی۔ میڈیا کے سامنے یہ اقدام واضح پیغام تھا کہ اگر ویکسین واقعی مضر ہوتی تو سرکاری خاندان اس کو اپنی اولاد پر آزمائش کے طور پر نہیں لے آتا۔
یہ قدم اسی پس منظر میں اٹھایا گیا جب حالیہ دور میں ویکسین کے خلاف منفی مہم بڑھ گئی تھی اور عوام میں شک و شبہ کی صورتحال پیدا ہو گئی تھی۔ وزیرِ صحت نے اپنے عمل کے ذریعے عوام کے درمیان اعتماد بحال کرنے کی کوشش کی اور سوال اٹھایا کہ "اگر یہ نقصان دہ ہوتا تو کیا ہم اسے اپنی اولاد کو دیتے؟” اس سوال نے ویکسین کے بارے میں جاری بحث میں واضح موڑ پیدا کیا۔
<>ڈاکٹر شمعہ جونیجو> نے واقعے کے فوراً بعد اس اقدام کو سراہا اور کہا کہ اس طرح کے عوامی مظاہرے نے ہیومن پیپیلومہ ویکسین کے خلاف منفی پروپیگنڈے کو کمزور کیا ہے اور ویکسین کی ساکھ کو مضبوط کرنے میں مدد ملی ہے۔ ان کے بقول شکوک و شبہات کا خاتمہ تبھی ممکن ہے جب عوام دیکھیں کہ ذمہ دار افراد خود اپنے بچوں کے ذریعے عوامی سطح پر اعتماد کا اظہار کرتے ہیں۔
وزیر کی ذاتی شمولیت اور اپنی بیٹی کو کیمرے کے سامنے ویکسین لگوانا ایک واضح اور قابلِ فہم پیغام تھا جو عوامی سطح پر ویکسین کے محفوظ ہونے کے بارے میں اطمینان پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس اقدام نے نہ صرف سوشل میڈیا پر تعریفیں حاصل کیں بلکہ صحت عامہ کے پیغامات کی ترسیل میں بھی مدد دی۔
سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں اس اقدام کو مثبت ردعمل ملا اور بہت سے لوگوں نے اس کو عوامی صحت کے فروغ اور غلط معلومات کے خلاف مضبوط قدم قرار دیا۔ اس پیش قدمی کو ویکسین پر اعتماد بحال کرنے اور قابلِ احتیاط بیماریوں کے خلاف صف آرا رہنے کی جانب ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، خاص طور پر جب ہیومن پیپیلومہ ویکسین کی قبولیت وبائی امراض کے خلاف حفاظتی اقدامات میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔
