امریکی وفاقی عدالت نے Anthropic اور ایک گروپ مصنفین کے درمیان ممکنہ ایک ارب پچاس کروڑ ڈالر کے مصالحتی معاہدے کی عبوری منظوری سے انکار کر دیا، جس سے یہ تنازعہ ایک بڑے قانونی امتحان کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ عدالت نے معاہدے میں شفافیت اور عدل کے فقدان کی نشاندہی کی اور کہا کہ کئی اہم سوالات کے جواب درکار ہیں، ورنہ معاملہ باقاعدہ مقدمے بازی کی طرف جائے گا۔
معاملے کا پس منظر یہ ہے کہ چند معروف مصنفین نے Anthropic کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے اور موقف اختیار کیا ہے کہ کمپنی نے اپنے Claude نامی چیٹ بوٹ کی تربیت کے لیے LibGen اور PiLiMi جیسے پیریسی سائٹس سے کاپی رائیٹڈ کتابیں ڈاؤن لوڈ کیں۔ مدعیین میں Andrea Bartz، Charles Graeber اور Kirk Wallace Johnson سمیت دیگر شامل ہیں۔ پچھلے عدالتی احکامات میں قانونی طور پر حاصل شدہ کتابوں پر تربیت کو فیئر یوز کے دائرہ میں آنے کا امکان تسلیم کیا گیا، مگر عدالت نے واضح کیا کہ پیریٹیڈ کاپیاں ذخیرہ کرنا اور استعمال کرنا حفاظتی دائرہ میں نہیں آتا۔
پیش کردہ مصالحتی شرائط کے تحت Anthropic ایک فنڈ قائم کرنے پر راضی تھا جس کا حجم ایک ارب پچاس کروڑ ڈالر بتایا گیا، اور اس حکمتِ عملی کے مطابق اندازاً پانچ لاکھ مستحق عناوین کے لیے فی کتاب تقریباً تین ہزار ڈالر ادا کیے جانے تھے۔ کمپنی نے ان ڈاؤن لوڈ شدہ غیر قانونی نقول کو حذف کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی، جبکہ کسی بھی غلطی یا قانونی خلاف ورزی کا اعتراف معاہدے میں شامل نہیں تھا۔
جج William Alsup نے منصوبے پر سخت تحفظات کا اظہار کیا اور اسے "قابلِ قبول حد تک کافی نہیں” قرار دیا۔ ان اعتراضات میں سب سے نمایاں خامیاں درج ذیل تھیں: متاثرہ کتابوں کی حتمی فہرست موجود نہ ہونا جس سے یہ واضح نہیں ہوتا کون سی تحریریں اہلِ معاوضہ شمار ہوں گی؛ کلیمز کے عمل کی غیر واضحیت، یعنی ادائیگیاں کس طرح تقسیم ہوں گی اور ایک ہی کام پر متعدد دعووں کی صورت میں کیا طریقہ اختیار کیا جائے گا؛ مصنفین کو شرکت یا خارج ہونے کے حقوق سے آگاہ کرنے کے ناکافی انتظامات؛ اور صنعت کے گروپوں جیسے Authors Guild اور Association of American Publishers کے ممکنہ حد سے زیادہ دائرہ کار کے امکان پر تشویش۔
عدالت نے ان نقائص کو دور کرنے کے لیے سخت وقتی ضوابط عائد کیے اور معاہدے کی دوبارہ جانچ پڑتال کی شرط رکھی۔ اگر مذکورہ خامیاں بروقت دور نہ کی گئیں تو عدالت نے معاملے کو باقاعدہ ٹرائل کی طرف بڑھنے کی ہدایت دی۔
یہ تنازعہ اس لحاظ سے اہم ہے کہ یہ طے کرے گا آیا AI تیار کرنے والی کمپنیاں کاپی رائٹڈ متون کو پیریسی ذرائع سے اسکریپ کر کے تربیت کے لیے استعمال کر سکتی ہیں یا نہیں۔ قانونی ماہرین تنبیہ کرتے ہیں کہ اگر مصالحتی ڈھانچے منصفانہ نہ بنائے گئے تو تجرباتی مقدمات میں AI کمپنیوں کو سنگین ذمہ داریوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جہاں ہر خلاف ورزی شدہ کام کے لیے قانونی جرمانے بہت زیادہ ہو سکتے ہیں۔
اہم نکتہ یہ ہے کہ Anthropic معاملے کی آئندہ پیش رفت اور عدالت کے مطالبات AI انڈسٹری کے لیے واضح پیغام ہیں کہ کسی بھی کتابی مواد کے استعمال میں شفافیت، قانونی جواز اور مصنفین کے لیے مضبوط معاوضے کے طریقہ کار لازمی ہوں گے۔
