پاکستان اور ایران کے تعلقات، زائرین اور مذہبی تعاون

newsdesk
4 Min Read

اسلام آباد سے بات چیت میں ایران کے سفیر ڈاکٹر رضا امیری مقدم اور وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے دونوں ممالک کے باہمی تعلقات، مذہبی ہم آہنگی، زائرین اور روزگار سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے بارشوں اور سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات پر افسوس کا اظہار کیا اور تعاون کو مضبوط کرنے پر اتفاق کیا۔ ملاقات میں مذہبی عدم برداشت، دہشت گردی اور فرقہ واریت کے خاتمے، روحانی و تعلیمی تعاون اور زائرین کی ریگولرائزیشن کے لیے عملی اقدامات زیرِ بحث آئے۔

ایرانی سفیر نے پاکستان میں بارشوں اور سیلاب سے ہونے والے نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان برادر اور ہمسایہ ملک ہے اور آزمائش کی اس گھڑی میں ایرانی عوام و حکومت پاکستانی عوام کے شانہ بہ شانہ کھڑے ہیں۔ دونوں طرف سے اس نوعیت کی انسانی اور سماجی مدد کے معاملات میں تعاون کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

ملاقات میں مذہبی انتہاپسندی، فرقہ وارانہ تشدد اور دہشت گردی کے خاتمے اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے امور پر مفصل تبادلہ خیال ہوا۔ ایرانی سفیر نے اسلاموفوبیا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کو نہایت اہم قرار دیا اور کہا کہ عالمی سطح پر تشدد اور عدم برداشت کے خلاف مشترکہ کوششیں ضروری ہیں۔ وفاقی وزیر نے بھی عالمی امن اور مذہبی رواداری کے فروغ میں پاکستان کی شمولیت کی اہمیت پر زور دیا۔

سیدھاں امور میں ایران اور عراق جانے والے پاکستانی زائرین کو ریگولرائز کرنے کی ضرورت پر اتفاق ہوا اور وفاقی وزیر نے بتایا کہ زائرین اور روزگار کے سلسلے میں ایران کے ساتھ جلد معاہدہ برائے مفاہمت (ایم او یو) پر دستخط کیے جائیں گے۔ وزارت مذہبی امور، وزارت داخلہ اور وزارتِ سمندری امور برائے بیرونِ ملک پاکستانیوں کی معاونت کے ساتھ ایم او یو کی تیاری میں مصروف عمل ہیں تاکہ قانونی اور منظم طریقے سے زائرین اور کارکنان کے تبادلے کو یقینی بنایا جا سکے۔

ڈاکٹر رضا امیری مقدم نے 50 ویں بین الاقوامی سیرت کانفرنس کے انعقاد پر وفاقی وزیر اور حکومت پاکستان کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ سیرت النبیؐ کی روشنی میں دورِ حاضر کے مسائل، بشمول سوشل میڈیا کے اثرات، کے حل کے لیے مل کر کوششیں کرنا ہوں گی۔ دونوں جانب سے عالمی سیرت کانفرنس کے بعد بین الاقوامی قرآن قرات مقابلوں کی میزبانی کو پاکستان کے لیے ایک منفرد اعزاز قرار دیا گیا اور اس مقابلے کی میزبانی پر خوشی کا اظہار کیا گیا۔

ملاقات کے اختتام پر دونوں ممالک نے حج و عمرہ کی ادائیگی، جدید تعلیم کے فروغ اور علماء کرام و مدارس کے طلبہ کے تبادلے بڑھانے پر اتفاق کیا تاکہ تعلیمی، مذہبی اور سماجی روابط مزید مضبوط ہوں اور دونوں برادر مسلم قوموں کے درمیان تعلقات کو فروغ ملے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے