پاکستان اور تھائی لینڈ کے درمیان تعلقات مضبوط کرنے کے لیے پارلیمانی رابطوں کے فروغ پر زور دیا گیا، جس میں تجارت، تعلیم، سیاحت، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ہنر کی تربیت کے ذریعے دوطرفہ تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔
اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقدہ ملاقات میں تھائی لینڈ کے سفیر نے پاکستان ـ تھائی لینڈ پارلیمانی فرینڈشپ گروپ کی قیادت سے ملاقات کی، جس کی صدارت نائب کنوینر جناب نوابزادہ میرجمال خان ریسانی نے کی۔ ملاقات میں پارلیمانی اداروں کے ذریعے دو طرفہ تعلقات کو مضبوط کرنے کے عملی امکانات پر تفصیلی تبادلۂ خیال ہوا۔
ملاقات میں دونوں فریقوں نے قدیم گندھارا ثقافتی ورثے کو دو ممالک کے تاریخی تعلقات کا پل قرار دیتے ہوئے باہمی دوستی کی دیرینہ بنیادوں کا اعادہ کیا۔ شرکاء نے پارلیمانی سفارت کاری کو اہم قرار دیتے ہوئے قانون سازوں کے تبادلوں اور مشترکہ پلیٹ فارمز کو تعلقات میں اضافے کا اہم ذریعہ قرار دیا۔
مذاکرات کا ایک کلیدی پہلو تجارتی و اقتصادی تعاون کو فروغ دینا رہا؛ تھائی وفد نے دو طرفہ تجارت دوگنی کرنے کی خواہش ظاہر کی اور فری ٹریڈ ایگریمنٹ (آزاد تجارتی معاہدہ) کی پیش رفت کو آگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس کے علاوہ سیاحت، ثقافت، کاروبار، سروسز سیکٹر اور حلال غذائی صنعت میں تعاون کے نئے مواقع کو بھی اجاگر کیا گیا۔ دونوں اطراف نے پاکستان اور تھائی لینڈ کی پارلیمانوں میں ایک دوسرے کے ہم منصب فرینڈشپ گروپ قائم کرنے کی تجویز پر بھی اتفاق کیا۔
سفری سہولتوں اور کاروباری ماحول کے بہتر ہونے پر بھی زور دیا گیا؛ براہِ راست پروازوں کی تعداد بڑھانے، سفر کے روکاوٹوں میں کمی اور سرمایہ کاروں کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے عملی اقدامات پر بات چیت ہوئی تاکہ تجارتی اور سیاحتی روابط تسریع سے بڑھ سکیں۔
ملاقات میں یہ مؤقف بھی سامنے آیا کہ پارلیمانی تبادلے عوامی رابطوں کو مضبوط بنانے اور پائیدار تعاون قائم رکھنے کے لیے کلیدی میکانزم ہیں۔ شرکاء نے دونوں قوموں کے مابین دیرپا دوستی اور ترقی کے عزم پر اتفاق کیا اور تعلقات کو اعلیٰ سطح تک پہنچانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
