پاکستان میں شرح خواندگی اعدادوشمار، چیلنجز اور تجاویز

newsdesk
11 Min Read

پاکستان میں شرح خواندگی اعدادو شمار کے بھنور میں
ڈاکٹر محمدافضل بابر

دنیا بھر میں یہ مسلمہ اصول ہے کہ انسانی سرمایہ ہرطرح کے سرمائے سے بڑا سرمایہ ہے جن قوموں نے انسانی سرمائے کی صلاحیتوں کو پالش کرکے ترقی کے زینے پر چڑھنے کا فیصلہ کیا وہ اپنی منزل پر سب سے پہلے پہنچی۔ہم ماضی قریب میں جاپان اور جرمن کی مثالیں دیکھتے ہیں جنہوں نے عالمی جنگوں کے نتیجے میں بظاہر شکست کا سامنا کیا لیکن مفتوح ہونے کے باوجود انسانی صلاحیتوں کو نکھارکردورِ جدیدکے علوم کو اپنی درسگاؤں کا ہتھیار بناکرترقی یافتہ اقوام کی صف میں فوری طور شامل ہوگئے۔ایک ہم ہیں کہ 78سالوں سے عالمی اُفق پر تو دور کی بات اب علاقائی گراف میں بھی ہم سب سے نیچے ہیں۔میں جب یہ سطریں لکھ رہا ہوں تو میری میز پر آدھی درجن کے قریب سرکاری،نیم سرکاری ونجی دعوت نامے پڑے ہوئے ہیں جو عالمی یومِ خواندگی کومنانے کے لئے تقاریب منعقد کی جارہی ہیں۔پاکستان میں ناخواندگی کا مسئلہ شدید ہے تقریباً 67 ملین ناخواندہ بالغ افراد کے ساتھ اور 2011 سے اب تک تقریباً 62.3 فیصد شرح خواندگی جمود کا شکار ہے۔ بڑی وجوہات میں مسلسل غربت، تعلیم میں سرمایہ کاری کی کمی، صنفی عدم مساوات، ثقافتی رویہ اور چائلڈ لیبر شامل ہیں، جو لاکھوں بچوں کو اسکول جانے سے روکتی ہیں۔ یہ بحران قومی ترقی میں نمایاں طور پر رکاوٹ بنتا ہے، غربت میں اضافہ کرتا ہے اور صنفی عدم مساوات کو بڑھاتا ہے جس سے ملک کے مستقبل کے لیے جامع تعلیمی اصلاحات بہت ضروری ہیں۔اقوام متحدہ 1967 سے عالمی یوم خواندگی کی سالانہ تقریبات 8 ستمبر کو پوری دنیا میں مناتا ہے تاکہ پالیسی سازوں، پریکٹیشنرز اور عوام کو مزید خواندگی، انصاف پسند، پرامن اور پائیدار بنانے کے لیے خواندگی کی اہم اہمیت کی یاد دلائی جا سکے۔پڑھا لکھا معاشرہ سب کا بنیادی انسانی حق ہے۔ یہ دوسرے انسانی حقوق، زیادہ آزادیوں اور عالمی شہریت سے لطف اندوز ہونے کا دروازہ کھولتا ہے۔ خواندگی لوگوں کے لیے وسیع تر علم، مہارت، اقدار، رویوں اور طرز عمل کو حاصل کرنے کے لیے ایک بنیاد ہے تاکہ مساوات اور عدم امتیاز، قانون کی حکمرانی، یکجہتی، انصاف، تنوع، اور رواداری کے احترام پر مبنی پائیدار امن کی ثقافت کو فروغ دیا جا سکے۔ اپنے دوسرے لوگوں اور کرہ ارض کے ساتھ ہم آہنگ تعلقات استوار کرنا۔ تاہم کرہ ارض پر2022 میں 15 سال اور اس سے زیادہ عمر کے ساتھ بالغوں میں سے کم از کم (765 ملین) میں خواندگی کی بنیادی مہارتوں کی کمی تھی۔ مزید برآں لاکھوں بچے پڑھنے لکھنے اور شماریات میں کم سے کم مہارت حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، جب کہ 6-18 سال کی عمر کے تقریباً 250 ملین بچے اسکول سے باہر ہیں۔اس سال 2025 عالمی یومِ خواندگی کا تھیم ہے کہ ”ڈیجیٹل دور میں خواندگی کو فروغ دینا”۔مجھے آج بھی یاد ہے کہ 2009میں جب 18ویں ترمیم پرکام شروع ہوا تو 9ماہ سے زائد عرصے میں دستورِ پاکستان کو ایک جانب آمرانہ ترامیم سے پاک کیا گیا اور دوسری جانب کچھ ایسے فیصلے بھی کیے گئے جس کو عوامی سطح پر بہت سراہا گیا ان فیصلوں میں 25-Aبھی شامل ہے جس کے مطابق مادرِ وطن کے 5سے16سال کے ہربچے کو مفت اور لازمی تعلیم دینا حکومتوں پر فرض ہے۔اب 15سال میں 18ویں آئینی ترمیم ہوتے ہوئے ہم نے خود میلینیم ڈویلپمنٹ گولز میں ناکامی کااعتراف کیا۔ایس ڈی جیزپر بھی دستخط کیے ہوئے 10سال گزر گئے سرکاری طور پر کارکردگی تو2030میں سامنے آئے گی لیکن سالانہ آبادی میں اضافہ اور ہماری مرکزی و صوبائی حکومتوں کی دفتری بابوں کی کٹ کاپی پیسٹ رپورٹس کے ذریعے قوم کو ابہام میں مبتلا رکھنے والی پالیسیوں کاتو حساب اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی دینا ہوگا۔جواعدادوشمار پاکستان کے ڈیجیٹل سورس میں مئیسر ہیں وہ بھی کوئی اتنے حوصلہ افزا نہیں ہیں جیسے کہ2023 کی مردم شماری کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی شرح خواندگی 60-62% کے لگ بھگ ہے، جس میں جنس کے لحاظ سے نمایاں فرق ہے اور مردوں کی شرح (68%) خواتین (52.8%) سے زیادہ ہے۔ خواندگی میں پیش رفت سست ہے حالیہ برسوں میں مجموعی شرح میں صرف تھوڑا سا اضافہ ہوا ہے جس میں آبادی میں اضافے اور دیہی اور شہری علاقوں کے درمیان تفاوت کے چیلنجوں کابھی سامنا ہے۔ کچھ فوائد کے باوجود، شرح خواندگی میں صرف بتدریج معمولی بہتری آئی ہے اور دوسری قوموں کے مقابلے میں قدرے بظاہرمستحکم ہے۔ پاکستان کی آبادی میں تیزی سے اضافہ شرح خواندگی میں تیزی سے اضافہ کرنا مشکل بناتا ہے۔ شرح خواندگی صوبوں اور شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان مختلف ہو سکتی ہے۔ غربت اور معیاری تعلیم تک محدود رسائی جیسے عوامل، خاص طور پر دیہی علاقوں میں خواندگی کی سطح کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ حکومت اور تعلیم کے حامی تعلیمی اخراجات کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔آج سے 3سال قبل پی ڈی ایم حکومت کے چیف ایگزیکٹو (وزیراعظم) کو انہی اعدادو شمار کے ماہرین نے تعلیمی ایمرجنسی کا اعلان کرنے کا مشورہ دیا جس کے تحت کئی سو ملین رقم زیرو آوٹ آف اسکول بچوں کے نعرے پر مختص کروا لی گئی۔پی ڈی ایم حکومت کے خاتمے کے بعد نگران حکومت اور اب دوبارہ اتحادیوں کی حکومت مرکز میں اور صوبوں میں بھی ہے سوائے ایک صوبے کے تو جب میں نے اعدادوشمار کا جائزہ لینا چاہا تو مجھے ایسے لگ رہا تھا کہ جیسے جو حال ہم نے ایم ڈی جیز کے ساتھ کیا تھا اس سے کئی گنا بُرا حال ہم ایس ڈی جیز کے ساتھ کرنے کو جارہے ہیں پاکستان نے4 SDG (معیاری تعلیم) کے حصول کی طرف سست اور جمود والی پیش رفت کی ہے، جس میں قومی خواندگی کی شرح کئی سالوں سے رُکی ہوئی ہے اور اعلیٰ تعلیم کی سطحوں پر تکمیل کی کم شرح ہے۔ چیلنجز میں تعلیم میں نمایاں صنفی تفاوت، اسکول کی بنیادی سہولیات کا فقدان، اور ناکافی فنڈنگ وغیرہ شامل ہیں۔ حال ہی میں فروری 2025 میں ایک وسط مدتی جائزہ رپورٹ کا آغاز کیا گیا تھا، جس میں چیلنجز کو اجاگر کیا گیا تھا اور ٹھوس اقدامات کی سفارش کی گئی تھی، کافی سرمایہ کاری اور ایک متحد ڈیٹا پر مبنی نقطہ نظر کی ترقی کو تیز کرنے اور 2030 کے تعلیمی اہداف کو حاصل کرنے کے لیے ابھی بھی تمام اسٹیک ہولڈرز کو سر جوڑ کرکام کرنے کی ضرورت ہے۔2022کے سیلاب کی تباہ کاریاں ابھی تک سنبھالی نہیں گئی تھی کہ 2025کے سیلاب بھی بہت سارا نقصان کرچکے۔ایک طرف ہم کم شرح خواندگی کا رونا روتے ہوئے کروڑوں آوٹ آف اسکول بچوں کی بات کرتے ہیں جبکہ دوسری جانب جوبچے کسی نا کسی وجہ سے سرکاری ، نیم سرکاری نجی و دینی درسگاؤں میں آگئے ہیں ان کے پڑھائی کے دن پورے کرنے کے لئے ہمیں عدالتوں سے رجوع کرنا پڑرہا ہے۔سیاسی عدم استحکام قومی تعلیمی پالیسی کا 15سال سے نا ہونا بھی شرح خواندگی بڑھانے میں بہت بڑی رکاوٹیں ہیں۔ نصاب اور نظامِ امتحانات میں بھی بار بار تبدیلیاں آوٹ آف اسکولز بچوں کی تعداد میں اضافہ کے اسباب بن رہے ہیں تعلیمی شعبے کی اصلاحات پر بہت دفعہ لکھا گیا اب عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔نبی آخرالزماں حضرت محمدﷺ نے قیامت تک جوسنت ہمارے لئے چھوڑی ہے کہ آپ ﷺ نے غزوہ بدر کے غیر مسلم قیدیوں سے بھی مدینہ کے بچوں کی تعلیم کا اہتمام کروایاآج جب مادرِ وطن میں 3لاکھ نجی تعلیمی اداروں کے 30لاکھ سپاہی اپنی مددآپ کے تحت ساڑھے تین کروڑ بچوں کو معیاری تعلیم دیتے ہوئے حکومتوں کے اربوں روپے بچا رہے ہیں تو بجائے اس کے کہ ہمارے حکمران اور پالیسی سازان کے شکرگزار ہوں ان کے لئے طرح طرح کی مشکلات میں اضافہ کرکے معیاری شرح خواندگی میں اضافے کو بھی روک رہے ہیں نیز سرکاری وسائل سے چلنے والے تعلیمی اداروں کو بھی آوٹ سورس کرکے اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برا ہورہے ہیں۔ خیر اس ڈیجیٹل دور میں جہاں دنیا کی چھوٹی چھوٹی اقوام نے بھی خواندگی کے فروغ میں جدید ٹولز کا استعمال کرکے اہداف کے حصول کو ممکن بنایا ہے تو ہمیں بھی افسر شاہی کے اعدادو شمار کے بھنور سے نکل کرذمینی حقائق کا ادراک کرتے ہوئے عالمی یومِ خواندگی پر ڈیجیٹل ترقی کے ذریعے شرح خواندگی میں اضافے کیلئے عملی اقدامات کرنا ہونگے۔سیاسی اور جمہوری روایات پر عمل کرتے ہوئے فلفور وفاقی دارالحکومت سمیت تمام وفاقی اکائیوں میں وسائل اور اختیارات کے ساتھ مقامی حکومتوں کا نظام بلاتعطل جاری رکھنا ہوگا تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیکر پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کا بھی عملی مظاہرہ کرنا ہوگا۔اللہ تعالیٰ ہمیں بانیانِ پاکستان کے خواب کے مطابق مادرِ وطن کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر تعلیم وتربیت کی روشنی کے ذریعے ناصرف مسلم اُمہ کی رائنمائی والا ملک بنانے کی توفیق دے بلکہ دنیا بھر کی ترقی یافتہ اقوام کے ہم پلہ ہونے کی بھی ہمت و توفیق عطافرمائے آمین۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے