اسلام آباد: دیوپاسی فاؤنڈیشن نے ہیومن پیپیلوما وائرس (ایچ پی وی) ویکسین سے متعلق قومی مہم سے قبل میڈیا راؤنڈ ٹیبل کا انعقاد کیا، جس کا مقصد سینئر صحافیوں کو اس اہم موضوع پر آگاہ کرنا اور عوام میں ویکسین سے متعلق شعور بڑھانا تھا۔ اس تقریب میں صحت کے شعبے سے وابستہ حکومتی اور نجی اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی اور میڈیا کے کلیدی کردار کو اجاگر کیا، خاص طور پر ایچ پی وی ویکسین سے متعلق غلط فہمیوں کے ازالے اور اس کی افادیت اجاگر کرنے میں۔
راؤنڈ ٹیبل کے دوران شرکاء کو ایچ پی وی ویکسین مہم، ویکسین کے طبی فوائد اور اس موضوع پر رپورٹنگ کے لیے اخلاقی رہنما اصولوں کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ ویکسین کے بارے میں غلط اطلاعات اور شکوک کا خاتمہ فوری ضرورت ہے اور میڈیا اس سلسلے میں موثر آواز بن سکتا ہے۔
معروف صحافی ہما خاور نے کہا کہ صحافی برادری ایچ پی وی ویکسین سے متعلق افواہوں اور غلط معلومات کے خاتمے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔ پاکستان میں 7 کروڑ 30 لاکھ خواتین اس مرض کے خدشے کا شکار ہیں، اس لیے میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ درست معلومات معاشرے تک پہنچائے۔
ڈاکٹر روزینہ خالد، ایچ پی وی ویکسین کنسلٹنٹ، عالمی ادارہ صحت نے کہا کہ یہ ویکسین سالوں کی سائنسی تحقیق اور عالمی تعاون کی بدولت ممکن ہو سکی ہے۔ ویکسین کو معمول کے امیونائزیشن پروگرام کا حصہ بنا کر پاکستان اپنی آنے والی نسلوں کی صحت کے تحفظ کی جانب اہم قدم بڑھا رہا ہے۔
پاکستان سوسائٹی آف آبسٹیٹریشینز اینڈ گائناکالوجسٹس کی نمائندہ ڈاکٹر عائمہ زبیر نے کہا کہ خواتین کی صحت کا تحفظ قومی ذمہ داری ہے۔ اُن کے مطابق، جب پاکستان میں خواتین میں سب سے زیادہ پایا جانے والا دوسرا کینسر سروائیکل کینسر ہے، تو ایچ پی وی ویکسین کا اجرا وقت کی سب سے بڑی ضرورت بن چکا ہے۔
ڈاکٹر سیدہ رشیدہ بتول، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر اسلام آباد نے اس مہم کے مقامی سطح پر نفاذ پر روشنی ڈالی اور کہا کہ صحافیوں کو اس مہم میں شامل کرنا قابل ستائش قدم ہے۔ میڈیا کی شمولیت سے آگہی مہم کو موثر انداز میں پھیلانے میں سہولت ملے گی اور اس کے نتائج زیادہ دیرپا ہوں گے۔
دیوپاسی فاؤنڈیشن کی سی ای او کنز الایمان نے کہا کہ سماجی تنظیمیں والدین اور معاشرتی حلقہ جات کو متحرک کرنے، اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینے اور ویکسین سے متعلق اعتماد سازی کے لیے اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ ان کے مطابق، مقامی سطح پر آگاہی اور ہم آہنگی کے بغیر اس مہم کی مکمل کامیابی ممکن نہیں۔
تقریب میں شریک صحافیوں نے اس سیشن کو معلوماتی اور وقت کی اہم ضرورت قرار دیا اور بھرپور عزم ظاہر کیا کہ وہ اس مہم کی درست اور ذمہ دارانہ رپورٹنگ کریں گے۔
پاکستان دنیا کے 150 ویں ملک کے طور پر ایچ پی وی ویکسین کو قومی سطح پر متعارف کرانے جا رہا ہے۔ یہ مہم 9 سے 14 سال عمر کی بچیوں کے لیے منعقد ہوگی اور اس کا آغاز سندھ، پنجاب، آزاد کشمیر اور اسلام آباد میں ہوگا، جس کے بعد اسے ملک گیر ویکسینیشن پروگرام کا حصہ بنا دیا جائے گا۔
